بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 03/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

جنبی شخص کا غسل سے عاجز ہونے کی صورت میں تیمم کرنا


سوال

اگر ایک شخص بیماری کی وجہ سے غسل پر قادر نہ ہو لیکن وضو کرنے پر قادر ہو ،کیا ایسی صورت میں یہ شخص وضو اور تیمم دونوں کرے گایا صرف تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے؟

جواب

             اگر کوئی شخص کسی عذر مثلا بیماری وغیرہ کی وجہ سے پانی کے استعمال پر قادر نہ ہو یعنی پانی استعمال کرنے کی صورت میں کسی عضو کے تلف (ضائع )ہونے یا بیماری کی زیادتی کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں متبادل کے طور پر تیمم کرنے کی اجازت ہے ،اسی طرح اگر کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے غسل کرنے پر قادر نہ ہو تو وہ بھی تیمم کرے گا۔

            لہذا صورت مسئولہ میں عذرکی وجہ سے غسل سے عاجز شخص كے ليے وضو کرنا لازم نہیں بلکہ صرف تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے۔

 

وکذا لو کان صحیحا خاف حدوث مرض ۔۔۔ بغلبۃ ظن أي عن أمارة أو تجربة أو قول حاذق مسلم إخبار طبيب حاذق مسلم غير ظاهر الفسق(رد المحتار علی الدر المختار،كتاب الطهارة،باب التيمم،ج:1،ص:397)

ولو كان يجد الماء إلا أنه مريض يخاف إن استعمل الماء اشتد مرضه أو أبطأ برءه تيمم(الفتاوی الهندية،كتاب الطهارة،باب التيمم ،الفصل الأول ج:1،ص:81)۔

ولو كان مع الجنب ما يكفي للوضوء يتيمم ولا يجب التوضؤ(الفتاوی الهندية ،كتاب الطهارة،باب التيمم ،الفصل الثالث، ج:1،ص:84)


فتویٰ نمبر : 8974/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور