بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

میت کے ترکہ کو ایصال ثواب میں خرچ کرنا


سوال

میرے ماموں کچھ عر صہ پہلے وفات پا  گئے تھےاور اس کے کچھ پیسے ہیں اسں كی اولاد كی یہ  خواہش ہے كہ  اس رقم سےمرحوم باپ  کے  ایصال ثواب کے لیے صدقہ کے طور پر پل بنائیں جو ہما رے گاؤں کی ضرورت بھی ہے ۔کیا ان کے لئے ایسا کرنا درست ہے؟

جواب

           شرعی نقطہ نظر سے وفات کے وقت میت کی ملکیت میں جو کچھ موجود ہو وہ سب اس کے ترکہ میں سے شمار ہوتا ہے، جسے ورثا کے مابین ان کے شرعی حصص کے بقدر تقسیم کیا جاۓ گا ۔ تقسیم ترکہ سے پہلے کسی وارث کو یہ حق نہیں کہ وہ مشترکہ ترکہ میں سے دیگر ورثا کی رضامندی کے بغیر کوئی تصرف کرے ،خواہ میت کے ایصال ثواب کے لئےہی خرچ کرنا ہو۔

         لہذا صورت مسئولہ میں اگر مرحوم کے سب ورثا بالغ  ہوں اور وہ  اپنی رضامندی سے مر حوم کے تر کہ کو اس کے ایصا ل ثواب کے لئے کسی نیک   کام میں صرف کرنا چا ہتے ہوں تو شرعاًاس کی اجازت ہو گی لیکن اگر ورثا کی  رضامندی نہ ہو یا کچھ نا بالغ ورثا بھی  ہوں  تو اسں صورت میں تقسیم میراث سے قبل ایصال ثواب نہ کیا جائے تقسیم کے بعد ہر ایک اپنے حصے میں خود مختار ہو گا اگر چا ہے تو ایصال ثواب کر سکتا ہے  ۔

 

لأن تركة الميت ماتركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال. (ردالمحتار ، كتاب الفرائض ، ج:10 ص: 493)

يجوز لأحد أصحاب الحصص التصرف مستقلا في الملك المشترك بإذن الآخر ، لكن لا يجوز له أن يتصرف تصرفا مضرا بالشريك ، والإذن نوعان: صريح و دلالة ، ففي الأول يتصرف الشريك بحصة شريكه كما أذنه سواء أضر أو لم يضر فله أن يرهن و يبيع أو يهب - (شرح المجلة لسليم رستم باز ، الكتاب العاشر في أنواع الشركات ، الفصل الثاني ، المادۃ: 1071 ص:600)

.”وعن سعد بن عبادة قال: يا رسول الله إن أم سعد ماتت، فأي الصدقة أفضل؟ قال: «الماء». فحفر بئراً وقال: هذه لأم سعد. رواه أبو داود والنسائي”.(مشكاة المصابيح  كتاب الزكاة, ،باب فضل الصدقة ج:1 ص:597)


فتویٰ نمبر : 4872/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور