بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

"چاند کی رسول اللہ ﷺسے شکایت کرنے کے متعلق غیر مستند حدیث"


سوال

مسئلہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس ایک شخص آیااور گواہی دی کہ میں نے  چاند دیکھا ہے ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے شہادت قبول کی اور عید کا اعلان کیا،پھر چاند نے حضور ﷺ کوشکایت کی کہ اس بندے نے جوگواہی دی ہےاس میں یہ  جھوٹا ہے اور  مجھ کو نہیں دیکھا ہے۔ حضور ﷺنےچاند کو فرمایا: میں نے اس کی شہادت قبول کر لی  ہےبس کل عید ہوگی۔ اس طرح کوئی حدیث یاروایت یا قول موجود ہو تو رہنمائی فرمائیں، اگر موجود ہو توحوالہ ارسال فرمائیں۔

جواب

         مذکورہ حدیث ان الفاظ كے ساتھ كسی مستندکتاب میں بقدر  وسعت تلاش کرنے کے باوجود نہیں ملی اورکسی حدیث کی آپﷺکی طرف نسبت کرنے میں احتیاط سے کام لینا ضروری ہے ،اس لیے حدیث کے یقینی طور پر ثابت ہونے سے پہلے اس کے بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، تاکہ آپﷺکی طرف جھوٹ کی نسبت کر نے سے عاقبت خراب نہ ہو جائے،لہذامذکورہ حدیث کے بیان سے اجتناب کیا جائے۔

 

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من كذب علي متعمدا، فليتبوأ مقعده من النار" (مقدمة مسلم،باب تغليظ الكذب على رسول اللهﷺ،رقم الحديث:4،ج:1،ص:67)


فتویٰ نمبر : 4865/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور