بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
طلاق کے الفاظ سے اعراض کرنا
سوال
ایک آدمی کو اس کے باپ نے کہا اپنی بیوی کو طلاق دیدو۔وہ کہتا ہے ''چلو ٹھیک ہے میں آفس جارہا ہوں '' اور اس سے طلاق کی نیت نہ تھی بلکہ اس نے بات سنی ہی نہیں ہے تو کیا اس طرح کہنے سے طلاق واقع ہوگی ؟
جواب
واضح رہے اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے جواب میں کوئی بات کہہ دے تو شرعا جواب اسی سوال کے مضمون پر مشتمل سمجھا جاتا ہے تاہم سوال سنے بغیر جواب دینے سے سوال کے مضمون کا اعادہ نہیں سمجھا جائےگا۔
صورت مسؤلہ میں مذکورہ شخص اگر اپنے بیان میں سچا ہو اور اس نے باپ کی بات واقعتا نہ سنی ہوں تو ان الفاظ کے ادا کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔
وفی الأشباہ:القاعدۃ الحادیۃ عشرۃ ''السؤال معاد في الجواب''(الدر المختار: کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الضرب والقتل،ج:5،ص:679)
السؤال معاد ٖفي الجواب: یعني أن ما قیل فی السؤال المصدق کأن المجیب المصدق قد أقر بہ۔۔۔ معناھا أن الکلام المتعین لأن یکون جوابا لما قبلہ لعدم استقلالہ بنفسہ،أو لقرینۃ تصرفہ إلی الجواب،فسؤالا کان ما قبلہ استخبارا أوإخباراأوإنشاء ،ووقع الجواب تصدیقا لہ، یکون إقرارا واعترافا بجمیع ما تضمنہ الکلام السابق۔ ( شرح المجلۃ:المقالة الثانية في بيان القواعد الفقهية،ج:1،ص:177)