بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بٹائی کے موسم میں سفر کی حالت میں روزہ چھوڑنا


سوال

ہمارا خاندان بٹائی کے موسم میں اپنے علاقہ سے سفر کرکے پنجاب کے دور داراز  علاقوں میں گندم کی کٹائی کے لیے جاتا ہے۔جہاں پر ان کا قیام مخصوص علاقے میں یعنی ایک ہی گاؤں میں پندرہ دن سے کم ہوتا ہے،تو اگر رمضان کا مہینہ ہم پر آجائے تو کیا ہم پر رمضان کا روزہ رکھنا واجب ہوگا یا نہیں؟

جواب

            شرعی نقطہ نظر سے سفر شرعی میں مسافر کو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے دونوں کا اختیار ہے،البتہ اگر روزہ رکھنے میں مشقت و دشواری نہ ہو تو روزہ رکھنا افضل اور بہتر ہے،لیکن اگر روزہ  نہ رکھے تو اس پر کوئی  گناہ نہیں اور بعد میں صرف قضاء روزہ رکھےگا۔

          صورت مسئولہ کے مطابق اگر اپنے  گاؤں سے کم سے کم اڑتالیس میل (اٹھتر کلومیٹر) کی مسافت پر دور سفر کیا ہو اور وہاں پر ایک گاؤں یا شہر میں مسلسل پندرہ دن ٹھرنے کا ارادہ نہ ہو تو مسافر ہوں گے ، لہذا ایسی صورت میں روزے نہ رکھنا جائز ہے،بعد میں قضاء روزے رکھ لیں۔

 

قال اللہ تعالی:﴿أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ﴾(البقرہ: 184)

 منها السفر الذي يبيح الفطر وهو ليس بعذر في اليوم الذي أنشأ السفر فيه كذا في الغياثية فلو سافر نهارا لا يباح له الفطر في ذلك اليوم وإن أفطر لا كفارة عليه(الفتاوي الهندية، كتاب الصوم ، لباب الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار، ج:1، ص:227 ، دارالفكر)

وأما السفر فالمرخص منه هو مطلق السفر المقدر والأصل فيهما قوله تعالى { فمن كان منكم مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخر } أي فمن كان منكم مريضا أو على سفر فأفطر بعذر المرض والسفر فعدة من أيام أخر دل أن المرض والسفر سببا الرخصة۔۔۔ فعلم أن المرخص سفر مقدر بتقدير معلوم وهو الخروج عن الوطن على قصد مسيرة ثلاثة أيام فصاعدا ۔۔۔ وسواء كان السفر سفر طاعة أو مباح  أو معصية عندنا(بدائع الصنائع، كتاب الصوم،  فصل وأما حكم فساد ،ج: 2، ص:610، دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 8966/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور