بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

زنا کی تعریف اور اس کے بعد پاک دامن لڑکی سے نکاح کا حکم


سوال

میں نے ایک لڑکی کے شرمگاہ کے ایک ساتھ اپنا عضو تناسل لگا کر رگڑا  دخول تھوڑا سا بھی نہیں ہوا اور انزال ہوگیا، تو کیا ہم دونوں زانی کہلائیں گے؟ اور ہم پر وہی حد جاری ہوگی جو ایک زناکار پر جاری ہوتی ہے؟ اور اب میں کسی دوسری پاک دامن لڑکی سے نکاح کرسکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

                   اپنی بیوی کے علاوہ دوسری عورت سے ایسی ہمبستری کرنا کہ مرد کے عضو تناسل کا حشفہ (سپاری) عورت کی شرمگاہ  میں داخل ہوجائے زنا کہلاتا ہے،اس کے علاوہ  غیر عورت کا بوسہ لینا، گلے ملنا، جسم کو چھونا یہ سب دواعی زنا ہیں، یعنی زنا کے اسباب ہیں اور زنا کی طرح دواعی زنا بھی حرام ہیں تاہم زنا نہیں۔ زنا اور اس کی دواعی دونوں  شریعت کی نگاہ میں نہایت قبیح عمل اور گناہِ  کبیرہ ہیں، جس سے توبہ لازم ہے۔ تاہم زنایا دواعی زنا کے مرتکب شخص کا نکاح کسی پاک دامن عورت سے ممنوع نہیں ۔

                     صورت مسٔولہ میں اگر  دخول نہ ہوا ہو تو اس کو زنا نہیں کہا جا سکتا اور محض اس عمل پر حد زنا بھی جاری نہیں ہو سکتی، تاہم حكومت ايسے شخص كو تعزيری سزا دی سکتی ہے۔ نیز ایسا شخص کسی پاک دامن لڑکی کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے۔

 

قال الله تعالى: ﴿فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ﴾ (النساء:3)

الزنا هو الوطء في فرج المرأة العاري عن نكاح أو ملك أو شبهتهما ويتجاوز الختان الختان هذا هو الزنا الموجب للحد وما سواه ليس بزنا۔ ( الجوهرة النيرۃ، کتاب الحدود، ج:2، ص:147)

التعزير مفوض إلى رأي القاضي يقيمه بقدر ما يرى حصول الانزجار به. (محيط البرهاني، الفصل الخامس والعشرون: في اليمين، ج:8، ص:200)


فتویٰ نمبر : 4862/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور