بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
مثلہ کی تعریف اور اس کا حکم
سوال
مثلہ کیاہے ؟ اور اسکی تفصیل و حکم کیا ہے ؟
جواب
مثلہ لغت میں عبرتناک سزا کو کہتے ہیں اور اصطلاح میں کسی انسان کے ناک کان وغیرہ کاٹ کر صورت بگاڑدینا مثلہ کہلاتا ہے۔شریعت کی رو سے جس طرح زندہ انسان عزت وتکریم کا مستحق ہے ایسے ہی مردہ انسان کی عزت وتکریم لازم ہے۔جس طرح زندہ انسان کو تکلیف دینے سے تکلیف ہوتی ہے اسی طرح مردہ کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔آپ ﷺنے فرمایا '' مردے کی ہڈی توڑنا اور اسے ایذا پہنچانا ایسا ہی ہے جیسے زندہ کی ہڈی توڑنا''
چنانچہ اس وجہ سے شریعت نے مثلہ سے منع کیاہے کیونکہ اس میں انسان کی صورت بگاڑنا اور اس کی توہین و تذلیل کرنا ہے۔
عن المغيرة بن شعبة : أن النبي صلی الله عليه وسلم نهي عن المثلة۔ (شرح معاني الآثار:ج:3،ص:79،رقم الحديث:4912)
قال صلی الله عليه وسلم:"كسر عظم الميت ككسر عظم الحي" ( سنن ابي داؤد ،كتاب الجنائز،ج:2،ص:104)
مطلب في بيان نسخ المثلة۔۔۔ثبت في الصحيحين وغيرهما النهي عن المثلة فإن كان متأخرا عن قصة العرنيين فالنسخ ظاهر ،وإن لم يدر فقد تعارض محرم ومبيح ،فيقدم المحرم ويتضمن الحكم الآخر۔ (رد المحتار : مطلب في بيان نسخ المثلة ،ج:6،ص:212)
المثلة : بفتح الميم و ضم الثاء ، العقوبة ۔۔۔ يقال : مثلت بالحيوان أمثل به إذا قطعت أطرافه و شوهت به ، ومثلت بالقتيل إذا جدعت أنفه وأذنه أو مذاكيره أو شيئا من أطرافه ۔ (لسان العرب،ج:13،ص:25)