بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
لعان سے تفریق کی صورت میں مہر کاحکم
سوال
لعان کی تکمیل کے بعد جب میاں بیوی کے درمیان تفریق ہو جائے ،تو کیا شوہر کے ذمہ مہر لازم ہے یا بغیر مہر کے تفریق ہوگی یعنی نکاح میں جو مہر مقرر کیا تھا ،تو کیا اس کی ادائیگی لازم ہوگی یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ نکاح کے وقت جو مہر مقرر ہو جائے ،تو وہ عورت کا حق بن جاتاہے ،اگر شوہر نے بیوی سے خلوت صحیحہ یا دخول کیا ہو تو شوہر کے ذمے پورا مہر دینا لازم ہے ،لہذا اگرمیاں بیوی کے درمیان لعان سےتفریق ہو جائے تو شوہر پر اس مہر کا ادا کرنا لازم ہوگا۔
والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء،(الفتاوى الهندية، الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة ،ج:1،ص:303)
قال النبي صلى الله عليه وسلم للمتلاعنين: «حسابكما على الله، أحدكما كاذب، لا سبيل لك عليها» قال: مالي؟ قال: «لا مال لك، إن كنت صدقت عليها فهو بما استحللت من فرجها، وإن كنت كذبت عليها فذاك أبعد لك(صحیح البخاری ، باب قول الامام للمتعلاین ،ج:2،ص:55،رقم الحدیث:5312)
قال العينى فى شرحه :تؤخذ من قوله لا مال لك إلى آخره لأن المراد منه الصداق الذي لها عليه ودخل بها وانعقد الإجماع على أن المدخول بها تستحق جميع الصداق والخلاف في غير المدخول بها فالجمهور على أن لها النصف كغيرها من المطلقات قبل الدخول.(عمدۃ القاری شرح صیح البخاری،باب الصداق الملاعنۃ،ج:20،ص:226)