بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قبر پر پھول اور زمزم ڈالنا


سوال

ہمارے  ہاں اب یہ کام بہت شدت اختیار کر گیا ہے کہ تد فین کے  بعد قبر پر پھول ضرور بہ ضرور چڑھائيں گے اور آخر میں اس پر  زمزم کا پا نی بھی چڑھکتےہیں تو شریعت میں اس کا کیا حکم ہے ؟   

جواب

           قبر وں پر پھول اور زمزم ڈالنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم،صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ مجتہدین سے ثابت نہیں ہے، اس لیے  قبر پر پھول ڈالنا درست نہیں ہے، بلکہ پھول کے بجائے یہ رقم صدقہ وخیرات کرکے میت کو ثواب پہنچايا جائے، یہ زیادہ بہتر ہے، تاکہ میت کو بھی فائدہ ہو اور رقم بھی ضائع نہ ہو۔

             البتہ  تدفین کے موقع پر قبر پر مٹی ڈالنے کے بعد پانی چھڑکنا مستحب ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد اور اپنے صاحب زادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہما کی قبر پر پانی چھڑکا تھا اور حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر پر پانی چھڑکنے کا حکم فرمایا تھا۔  تاہم اس موقع پر بھی زمزم کی جگہ عام پانی استعمال کرنا ہی بہتر ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا عمل منقول ہے۔

 

أنكر الخطابي ومن تبعه وضع الجريد اليابس، وكذلك ما يفعله أكثر الناس من وضع ما فيه رطوبة من الرياحين والبقول ونحوهما على القبور ليس بشيء۔(عمدة القاري شرح صحيح البخاري (ج:5،ص:4)

(ولا بأس برش الماء عليه) حفظًا لترابه عن الاندراس(قوله: ولا بأس برش الماء عليه) بل ينبغي أن يندب؛ «لأنه صلى الله عليه وسلم فعله بقبر سعد»، كما رواه ابن ماجه، «وبقبر ولده إبراهيم»، كما رواه أبو داود في مراسيله، «وأمر به في قبر عثمان بن مظعون»، كما رواه البزار، فانتفى ما عن أبي يوسف من كراهته؛ لأنه يشبه التطيين، حلية۔(رد المحتارج:2،ص:237)


فتویٰ نمبر : 4839/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور