بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مسجد کی نیت سے الگ کی گئی جگہ پر دکانیں بنانا


سوال

 ميں نے اپنے ايك   پلازه كے اندركونے ميں دو تين دكانوں كی جگہ مسجد كے ليے وقف کی ہےچونکہ  یہ جگہ کونے میں واقع ہے اب میں اس کی بجائے  فرنٹ پر جو دوکانیں  ہیں ان کے اوپر بڑی مسجد بنانا چاہتا ہوں اور اس جگہ دکانیں بنا دوں گا کیا یہ جائز ہے یا نہیں ۔نیز مسجد کے لیے جو جگہ  وقف ہے اس میں ابھی تک کوئی نماز ادا نہیں کی گئی ہے۔

جواب

             مسجد  کے لیے زمین  کا وقف  اس وقت تام ہوتا ہے جب واقف کی اجازت سے اس جگہ اذان واقامت  کےساتھ باجماعت نماز ادا کی جائے اور جب تک وقف  تام نہ ہو  مالک  اس میں  تصرف   کرسکتاہے ۔

           صورت مسئولہ  کے مطابق   اگرحسب بیان  مسجد کے لیے مخصوص جگہ  میں ابھی تک باجماعت نماز  ادا نہ ہوئی ہو تو اس میں مالک کی ملکیت باقی ہے لہذا اگر وہ اس جگہ پر دوکانیں بنانا چاہے اور اس کے بدلےدوسری جگہ  مسجد یا دکانوں کے اوپر مصلّٰی بنانا چاہے تو اس کےلیے  جائز ہے۔

 

 (ويزول ملكه عن المسجد والمصلى) بالفعل و (بقوله جعلته مسجدا) عند الثاني (وشرط محمد) والامام (الصلاة فيه)بجماعة۔وقال ابن عابدينؒ"لأنه لا بد من التسليم عندهما خلافا لأبي يوسف وتسليم كل شيء بحبسه ففي المقبرة بدفن واحد وفي السقاية بشربه وفي الخان بنزوله كما في الإسعاف واشتراط الجماعة لأنها المقصودة من المسجد ولذا شرط أن تكون جهرا بأذان وإقامة وإلا لم يصر مسجدا، قال الزيلعي وهذه الرواية هي الصحيحة (الدر المختار على صدرردالمحتار،كتاب الوقف،ج:6،ص:544)


فتویٰ نمبر : 4837/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور