بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قرض وصول ہونے کے بعد زکوۃ کا حکم


سوال

زید نے ایک شخص کو پانچ لاکھ روپے قرض دیا ، کچھ عرصہ بعد وہ شخص غائب ہوگیا ، تلاش بسیار کے باوجود وہ شخص نہ ملا، اور زید ان پیسوں سے ناامید ہوگیا،تین سال بعد وہ شخص زید کے پاس آیا اور زید کا قرض واپس کر دیا اور کچھ مجبوریوں کی وجہ سے رابطہ نہ کرنے پر معذرت بھی کی۔زید صاحب نصاب بھی ہے تو کیا زید پر گزشتہ تین سالوں کی زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟

جواب

            واضح رہے کہ جب قرض دینے والا اپنے قرض کے وصول ہونے سے مایوس ہو جائے ، مثلا مقروض منکر ہو یا اس طرح غائب ہو کہ ملنے کی امید نہ ہو تو ایسےمال میں زکوۃ  واجب نہ ہوگی، پھر اگر خلاف امید وہ قرض واپس مل جائےتو گزشتہ سالوں کی زکوۃ لازم نہیں ،البتہ وصولی کے بعد اس پر سال گزر جائے تو زکوۃ   واجب ہوگی۔

           صورت مسئولہ میں اگر نے زید نے واقعی بکر کو تلاش کیا تھا لیکن بکر اس طرح غائب تھا کہ اس کے ملنے کی امید ختم ہو گئی تھی تو اس صورت میں قرض ملنے کے بعدزید پر گزشتہ تین  سالوں کی زکوۃ واجب نہ ہوگی۔

 

(لا زكاة في مال الضمار) وهو ما لا يمكن الانتفاع به مع بقاء الملك۔ (الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الزكاة، ج:3، ص:184)


فتویٰ نمبر : 8948/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور