بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مذبوحہ جانور کے ربوی اور غیر ربوی اعضاء


سوال

جانور کے مختلف اعضا جیسے دل،گردے،کلیجی،جگر،گوشت،ہڈی،پائے،سر،مغز،پھیپھڑے،اوجھری اور کھال وغیرہ کے بارے میں وضاحت فرمادیں کہ کونسا عضو الگ جنس ہے،نیز جانور کے اعضا میں جنس کی وضاحت فرمادیں؟

جواب

            واضح رہے کہ فقہائے کرام نے جانوروں کے اعضا کے عموما تین اجناس بیان کئے ہیں 1۔گوشت اور ہڈیاں 2۔پائے3۔کھال۔

               آج کل کے عرف میں خرید وفروخت کے اعتبار سے مذبوحہ جانور کے اعضا کی تقسیم اس طرح ہوتی ہے۔1۔گوشت ،ہڈیاں اور بڑے جانوروں کے سر(مغز اور زبان کے علاوہ)2۔کلیجی،جگر،دل اور گردے وغیرہ3۔پائے4۔مغز5 ۔زبان 6۔پھیپھڑے 7۔اوجھڑی8۔چھوٹے  جانوروں  کے سر 9۔کھال۔ہمارے عرف میں ان سب کو الگ الگ فروخت کرنے اور بعض کو وزن کے حساب سے جب کہ بعض کو عدد کے حساب سے فروخت کرنے کا تعامل ہے۔ان میں سے جو  اعضا  وزن کے  حساب سے فروخت کئے جاتے ہیں جیسے گوشت،ہڈیاں،بڑے جانوروں کے سر،کلیجی،جگر،دل اور گردے وغیرہ تو یہ سب موزونات میں سے ہیں ،لہذا ان کے تبادلہ یا تقسیم میں تفاضل ممنوع ہوگا اور جو اعضا عدد کے حساب سے فروخت کئے جاتے ہیں جیسے پائے،چھوٹے جانوروں کے سراور کھال وغیرہ تو یہ عددیات میں سے ہونے کی وجہ سے اموال ربویہ میں سے نہیں،اس لیے ان کے ہم جنس سے تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے نیز تقسیم میں اگرحصہ میں ان عددیات میں سے کوئی چیز  رکھ دی جائےتو باہم رضامندی سے اندازے سے تقسیم جائزہوگی۔

 

(ويقسم اللحم وزنالا جزافا إلا إذا ضم معه الأكارع أو الجلد) صرفا للجنس لخلاف جنسه.(ردالمختارعلى الدرالمختار،كتابالأضحية،ج:9،ص:460)

العادة محكمة يعني أن العادة عامة كانت أو خاصة تجعل حكما لإثبات حكم الشرعي۔۔۔والعرف والعادة إنما تجعل حكما لإثبات الحكم الشرعي إذا لم يرد نص في ذالك الحكم المراد إثباته۔(دررالحكام۔المادة:36،ج:1،ص:40)


فتویٰ نمبر : 8947/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور