بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

وسوسہ ،حکایت طلاق یا خطا سےطلاق کا حکم


سوال

میرے دل میں طلاق کے خیالات آتے ہیں تو میں اپنے آپ سے بات کرتے ہوئے کہتا ہوں:(یہ خیال خود بخود آیا ہے میرے ارادے سے نہیں آیا اس طرح کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔)میرے ایسے کہنے سے نکاح پرفرق تو نہ پڑے گا؟کیوںکہ کہیں پڑھا ہے کہ صرف طلاق کا لفظ منہ سے نکل جائے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے جبکہ قرآن میں سورہ طلاق بھی ہے یہ کیسا مسئلہ ہے؟جبکہ فقہ شافعی میں مسئلہ ہے کہ کوئی شخص غلطی سے منہ سے کہہ دے انت طالق تو طلاق واقع نہیں ہوتی جبکہ حنفیہ کے ہاں خطاء بھی طلاق دے گا تو طلاق واقع ہو جائیگی جبکہ امت محمدیہ پر بھول چوک معاف ہے جیسے کہ روزہ کی حالت میں بھول کر کچھ کھالے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ شرعی طور پرایسی طلاق نہیں ہوتی ہے صرف فقہ حنفی میں ہوتی ہے؟

جواب

              واضح رہے کہ انسان کے ذہن میں اختیاری اور غیراختیاری طور پرمختلف قسم کے خیالات اور وسوسے آتے  رہتے ہیں  ان پر کوئی شرعی حکم مرتب نہیں ہوتا۔اسی طرح اگرکوئی طلاق کے لفظ کی حکایت  کرے یا سورۃ طلاق کی تلاوت کرے اس سے بھی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔اورخطا سے متعلق وضاحت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی اور لفظ بولنا چاہتا تھا اور طلاق کا لفظ منہ پر آگیااورحالات وقرائن بھی اس کے خطا پر شاہد ہوں تو اس پر بھی دیانۃ شرعی حکم مرتب  نہیں ہوتا ہے البتہ قضاء اس پر شرعی حکم مرتب ہوتا ہے۔

            لہذا صورت مسئولہ کے مطابق محض وسوسے سے طلاق واقع نہیں ہوگی ۔اسی طرح لفظ طلاق کے استعمال یا سورۃطلاق کی تلاوت کرنے سےطلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ حکایت کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔جبکہ اگرخطاءہوجائے یعنی کہنا کچھ اور تھا  اور منہ سے لفظ طلاق نکل گیا تو یہ طلاق قضاء واقع ہوگی، یعنی قاضی طلاق کا فیصلہ کرے گاجبکہ دیانۃ واقع نہیں ہوگی یعنی اگر معاملہ قاضی تک نہ پہنچے تو طلاق واقع نہیں ہوگی اور اس کی نیت معتبر ہوگی اور بیوی اس کی بیوی رہے گی لہذا قضائے قاضی سے پہلے عورت دوسرے  شوہر کے ساتھ شرعاً نکاح نہیں کر سکتی۔

 

علم أنه حلف ولم یدر بطلاق، أو غیرہ لغا کما لو شک أ طلق ،أم لا۔( ردالمحتار،کتاب الطلاق،باب الصریح ،ج:4/ص508)

حکی یمین رجل ،فلما بلغ إلی ذکرالطلاق خطر ببالہ امرأتہ إن نوی عند ذکر الطلاق عدم الحکایۃ واستئناف الطلاق ،وکان موصولہ بحیث یصلح للإیقاع علی امرأتہ یقع ؛لأنہ أوقع وإن لم ینو شیئا لا یقع ؛لأنہ محمول علی الحکایۃ۔  (الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الطلاق ، الباب الأول فصل فیمن یقع طلاقہ۔۔۔ ج:1/ص:420)

وأفاد أن طلاق الھاذل واللاعب والمخطئ واقع کما قدمناہ لکنہ فی القضاء وأما فیما بینہ وبین اللہ تعالی فلا یقع علی المخطئ۔ (البحرالرائق باب الطلاق ج:3/ص:450)


فتویٰ نمبر : 6331/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور