بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
جھوٹی تصدیق کرنا
سوال
میں ایک محکمے میں ملازم ہوں۔ شادی سے پہلے میں نے جو کوائف دیے تھے ان کی تصدیق کا کہا گیا۔ میں چاہتا ہوں کہ اب میری شادی بھی محکمہ میں رجسٹر ہو لیکن وہاں اندراج کرانے میں ابھی کافی مشکلات ہیں۔ مجاز آفیسر سے نکاح کے اندراج کا کہا تو وہ کہتا ہے کہ بعد میں آسانی سے ہو جائے گا اس لیے فی الحال پرانے کوائف میں جو درج ہے ان کی تصدیق کر دو ۔ اگر میں ان کی تصدیق کردوں تو کیا یہ جھوٹ کے زمرے میں تو نہیں آئے گا کیونکہ ازدواجی حیثیت کے خانے میں کنوارا لکھا ہوا ہے۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں ۔
جواب
واضح رہے کہ جان بوجھ کرخلاف واقع بات کہنا جھوٹ ہے اور جھوٹ حرام ہے ۔ رسول اللہ نے جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی کو کبیرہ گناہوں میں سے قرار دیا ہے اور جھوٹ بولنےکو منافق کی نشانی شمار کیا ہے ۔
صورت مسئولہ میں سائل کا پرانے کوائف نامہ کی تصدیق کرنا ، جس میں سائل کی ازدواجی کیفیت کنوارا مندرج ہے حالانکہ اب وہ کنورا نہیں رہا، تو یہ جھوٹ ہے ا س لیے اس سے بچنا لازمی ہے ۔
كذب الخبر عدم مطابقته للواقع وقيل هو إخبار لا على ما عليه المخبر عنه۔ (التعريفات للجرجاني، باب الكاف، ص:129)
حدثني إسحاق، حدثنا خالد الواسطي، عن الجريري، عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أنبئكم بأكبر الكبائر قلنا: بلى يا رسول الله، قال: " الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وكان متكئا فجلس فقال: ألا وقول الزور، وشهادة الزور، ألا وقول الزور، وشهادة الزور " فما زال يقولها، حتى قلت: لا يسكت۔ (صحيح البخاري، كتاب الأدب، باب: عقوق الوالدين من الكبائر، ج:2، ص:884)
حدثنا سليمان أبو الربيع، قال: حدثنا إسماعيل بن جعفر، قال: حدثنا نافع بن مالك بن أبي عامر أبو سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان "۔ (صحيح البخاري، كتاب الإيمان، باب علامة المنافق، ج:1، ص:10)