بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
قربانی کے جانور کے گوشت کی تقسیم
سوال
1- ہمارے علاقے میں قربانی کے بعد گوشت کی تقسیم عموما یوں ہوتی ہے کہ سب سے پہلے کلیجی نکال کر سات حصوں میں کبھی اندازے سے اور کبھی وزن کر کے قرعہ اندازی سے تقسیم کی جاتی ہے۔2-اس کے بعد گوشت اور ہڈی کو وزن کر کے سات حصے بنا ئے جاتے ہیں چار حصوں پر چار پائے ، ایک حصے پر سری اور دو حصوں پر گودھے والی ہڈیاں رکھ دی جاتی ہیں، اسکے بعد قرعہ اندازی کرکے تقسیم کی جاتی ہے۔3- اوجھڑی چاہنے والے لیتے ہیں یا سات حصوں میں اندازے سے تقسیم کی جاتی ہے اور کھال کسی مدرسہ کو دی جاتی ہے۔ بعض لوگ سری پائے اور اوجھڑی سب بغیر تقسیم کے شرکا میں چاہنے والوں کو دے دیتے ہیں۔ کیا یہ تقسیم شرعا درست ہے؟4-مذکورہ بالا تقسیم تقریبا تین مرحلوں میں ہوتی ہے، لیکن کام کرنے والے افراد ذبح سے لے کر آخر تک مسلسل کام میں لگے رہتے ہیں ۔ درمیان میں چائے پانی بھی چلتا ہے۔ کیا پورا وقت ایک مجلس شمار ہوگا یا ہر تقسیم کے بعد مجلس بدل جائے گی؟
جواب
واضح رہے کہ قربانی کے جانور میں جب کئی افراد شریک ہوں تو گوشت کو وزن کرکے تقسیم کرنا ضروری ہے اندازے سے تقسیم کرنا درست نہیں، البتہ اگر گوشت کے ہر ایک حصے کے ساتھ گوشت کے علاوہ کوئی دوسری جنس کی چیز، مثلا:پائے یا چمڑا وغیرہ کو رکھ دیا جائے تو اندازے سے تقسیم کرنا بھی درست ہوگا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں(1) جب اولا صرف کلیجی کو نکال کر سات حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہو تو وزن کے ساتھ تقسیم کرنا ضروری ہوگا، اندازے سے تقسیم کرنا درست نہیں۔
2-گوشت اور ہڈی کے سات حصے بنانے کے بعد چار حصوں پر چار پائے ایک حصے پر سری اور دو حصوں پر گودھے والی ہڈیاں رکھ کر تقسیم کرنے کی صورت میں اگر ہڈی سے گوشت نہیں ہٹایا جاتا ہو تو وزن سے تقسیم ضروری ہے، کیونکہ گوشت اور ہڈی ایک جنس ہے تو دو حصوں پر گودھے والی ہڈیاں رکھنے کی وجہ سےہر ایک حصہ کے ساتھ دوسرے جنس کی چیز نہ پائی گئی، لیکن اگر ہڈی سے سارا گوشت ہٹا دیا جاتا ہو تواگر خالی ہڈی اس علاقے کے عرف میں گوشت سے الگ جنس شمار کی جاتی ہوتو پھر یہ تقسیم اندازے سے بھی جائز ہوگی اور اگر الگ جنس شمار نہ کی جاتی ہو تو پھر اس صورت میں بھی وزن سے تقسیم ضروری ہوگی۔
3- سری، پائے اور اوجھڑی کو تقسیم سے پہلےسب شرکا کی رضامندی سے کسی شریک کو دینا اس کے حصے میں بلا عوض زیادتی کی وجہ سے درست نہیں ، البتہ اگر اوجھڑی کو تقسیم کیا جاتا ہو اور اس کے ساتھ کوئی اور جنس نہ ہو تو وزن کر کے تقسیم کرنا ضروری ہے اندازے سے تقسیم کرنا درست نہیں، کیونکہ اوجھڑی بھی عرفاً موزونات میں سے ہے۔
4-جس مجلس میں کوئی کام شروع ہو اس میں کسی ایسے کام میں مشغول ہونے سے مجلس تبدیل ہوگی جو مجلس کے تبدیل ہونے پر دلالت کرے۔ جو کام مجلس کے تبدیل ہونے پر دلالت نہ کرتا ہو اس میں مشغول ہونے سے مجلس تبدیل نہ ہوگی، لہذا حسبِ بیان قربانی کے گوشت کی تقسیم جن مراحل میں ہوتی ہےاگر اس میں اولاً کلیجی کو تقسیم کرکے گوشت کاٹنے میں مشغول ہوجاتے ہوں تو کلیجی تقسیم کرنے کی مجلس ختم ہوکر گوشت کاٹنے کی مجلس دوسری مجلس شمار ہوگی، لیکن اگر اولاً پورا گوشت کاٹ کر اس کے بعد کلیجی، گوشت اور اوجھڑی کو ایک ہی مجلس میں الگ الگ تقسیم کیا جاتا ہو تو پھر تقسیم کا یہ پورا مرحلہ ایک مجلس شمار ہوگا، درمیان میں چائے پانی پینے سے مجلس تبدیل نہ ہوگی۔
ويقسم اللحم وزنا لا جزافا إلا إذا ضم معه الأكارع أو الجلد) صرفا للجنس لخلاف جنسه۔قال ابن عابدين: قوله (لا جزافا) لأن القسمة فيها معنى المبادلة، ولو حلل بعضهم بعضا قال في البدائع: أما عدم جواز القسمة مجازفة فلأن فيها معنى التمليك واللحم من أموال الربا فلا يجوز تمليكه مجازفة، وأما عدم جواز التحليل فلأن الربا لا يحتمل الحل بالتحليل۔(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الأضحية، ج:9، ص:460)
ويقسم اللحم بينهم بالوزن وإن اقتسموا مجازفة يجوز إذا كان أخذ كل واحد شيئا من الأكارع أو الرأس أو الجلد۔(الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، الباب الثامن في ما يتعلق بالشركة في الضحايا، ج:5، ص:352)
وكذلك لا يختلف بمجرد القيام ولا بخطوة وخطوتين وكلمة أو كلمتين ولا بلقمة أو لقمتين بخلاف ما إذا كان كثيرا وبخلاف ما إذا نام مضطجعا أو باع ونحوه فإنه يتبدل المجلس وكذا لو أرضعت صبيا، وكل عمل يعلم أنه قطع للمجلس بخلاف التسبيح ونحوه فإنه ليس بقاطع كالنوم قاعدا۔(البحر الرائق، كتاب الصلوة، باب سجود التلاوة، ج:2، ص:221)