بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

معذور حمل کو ساقط کرنا


سوال

اگر ماہر اور دیندار ڈاکٹر نے ایک حاملہ عورت کو یہ بتایا کہ اس کا بچہ معذور ہوگا، تو کیااس صورت میں اس حمل کا اسقاط شرعاجائز  ہے یا نہیں ؟

جواب

               واضح رہے کہ اگر حمل پر چار ماہ نہ گزرے ہوں اور ماہر ،قابلِ اعتماد ڈاکٹر حضرات کی کمیٹی کی رپورٹ اور تجرباتی وسائل اور آلات کے ذریعے فنی تحقیقات کی بنیاد پر یہ ثابت ہوجائے کہ ماں کے پیٹ میں موجود جنین خطرناک طور پر ایسا ناقص الخلقت ہے جو نا قابلِ علاج ہے ،اور اگر وہ باقی رہ کر اپنے وقت پر پیدا ہوتا ہے تو اس کی زندگی خوداس کےلیےاورگھر والوں کے لیے تکلیف کا باعث رہے گی  تو ایسی صورت میں والدین کے مطالبہ پر اس کا اسقاط جائز ہے ۔تاہم اگر حمل پر چار ماہ گزرے ہو ں،تو اس کےبعد اس کا اسقاط جائز نہیں خواہ طبی تشخیص سے یہ ثابت ہوجائے کہ بچہ ناقص الخلقت ہے۔

 

وفي الذخيرة: لو أرادت إلقاء الماء بعد وصوله إلى الرحم قالوا إن مضت مدة ينفخ فيه الروح لا يباح لها وقبله اختلف المشايخ فيه والنفخ مقدر بمائة وعشرين يوما بالحديث ۔( ردالمحتار، كتاب النكاح، باب الاستبراء وغيره، ج:6،ص:374)

 وعبارته في عقد الفرائد قالوا: يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو، وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وإنما أباحوا ذلك؛ لأنه ليس بآدمي.(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة ، باب الحيض ،ج: 1 ص: 302)


فتویٰ نمبر : 4827/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور