بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
دل ميں طلاق كا خيال آنے سے طلاق كا حكم
سوال
دل میں طلاق کا اس طرح خیال آئے کہ" کیا تم اپنی بیوی کو طلاق دیتے ہو" اس خیال کے جواب میں طلاق کی نیت سے انسان"ہاں"کہے اور کان" ہاں" کا لفظ سنیں جبکہ صرف ہاں بولا ہواور کوئی لفظ نہ بولا ہو تو اس كا كيا حكم ہے ؟
جواب
انسان كے ذہن میں اختیار ی اور غیر اختیاری طور پر مختلف قسم کے جو خیالات اور وسوسے آتے رہتے ہیں ان پر کوئی شرعی حکم مرتب نہیں ہوتا ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص کے دل میں خیال آئے کہ " کیا تم اپنی بیوی کو طلاق دیتے ہو" اور وہ شخص زبان سے "ہاں " کہے اور" ہاں" کا لفظ وہ شخص سنے تو محض" ہاں " کا لفظ کہنے سے طلاق واقع نہ ہوگی ۔
وشرعا: (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص)۔(الدرالمختارعلی صدرردالمحتار،کتاب الطلاق،ج:4،ص:423)
وأما بيان ركن الطلاق فركن الطلاق هو اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق لغة وهو التخلية والإرسال ورفع القيد في الصريح وقطع الوصلة ونحوه في الكناية أو شرعا وهو إزالة حل المحلية في النوعين أو ما يقوم مقام اللفظ۔(بدائع الصنائع،فصل وأما بيان ركن الطلاق،ج:3،ص:98)