بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اللہ تعا لی کو" کن فیکون" کہنا


سوال

 ایک شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ کو "کن فیکون" کہنا  ٹھیک نہیں ہے کیونکہ کن   خالق اور فیکون مخلوق ہے پہلے اللہ کو خالق اور پھر مخلوق کہتے ہیں اس بات کی کوئی اصل ہے یا نہیں؟

جواب

           واضح رہے کہ اللہ تعا لی کے تمام اسما توقیفی ہیں ۔توقیفی کا مطلب یہ ہے کہ جو قران وحدیث  میں پہلے سے مذکور ہیں اور حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالی کو انہی ناموں کے ساتھ پکارا کرو۔ 

            صورت مسئولہ کے مطابق اللہ کو "کن فیکون" کہنا اگراس طور پر ہو کہ یہ اللہ تعالی کی  عظمت و بڑھائی پر دلالت کرنے والے کلمات ہیں اور اس سے مقصود  اللہ کی صفت  قدرت کے کمال کا بیان ہویعنی کہ اللہ کوہر چیز  فوری طور پر پیدا کرنے کا اختیاراور قدرت حاصل ہے ،اور اس کے پیدا کرنے میں کسی آلہ یا کسی سبب کی طرف محتاج نہیں تو اس طورپر یہ الفاظ کہےجا سکتے ہیں تاہم یہ بطور اسم صفت نہ ہوں گے۔

 

﴿إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ﴾۔۔۔أي يحدث وهذا عند الأكثرين تمثيل لتأثير قدرته في مراده بأمر المطاع للمطيع في حصول المأمور من غير امتناع وتوقف وافتقار إلى مزاولة عمل واستعمال آلة، فالممثل الشيء المكون بسرعة من غير عمل وآلة، والممثل به أمر الآمر المطاع لمأمور به مطيع على الفور، وهذا اللفظ مستعار لذلك منه.(تفسير روح المعاني، سورةآل عمران،الآية 47،ج3،ص164)

هي كل معظمة في كل لغة لرجوعها إلی ذات واحدة، فان اسم الله لا يعرف العرب غيره،وهو بلسان فارس "خداي وبلسان الحبشة"واق"وابحث علی هذا في سائرالألسن، تجد ذلك الاسم الإلٰهي معظمافي كل لسان من حيث ما يدل عليه۔(اليواقيت والجواهر،ص105)


فتویٰ نمبر : 4881/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور