بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مسئلہ تقدیر پر اشکال کا جواب


سوال

 اس بات پر سب یقین رکھتے ہیں کہ آدمی کا ہر کام پہلے سے تقدیر میں لکھا ہوتا ہے ، خواہ اچھا ہو یا بر ا۔اب سوال یہ ہے کہ جب سب کچھ پہلے سے تقدیر میں لکھا گیا ہے اور تقدیر کو کوئی ٹال نہیں سکتا تو پھر گناہ سرزد ہونے کی صورت میں آدمی سزا کا مستحق کیوں ہوتا ہے؟

 

جواب

          احادیثِ مبارکہ کی رو سے تقدیر کے مسئلہ میں بے جا بحث و مباحثہ ممنوع ہے، کیونکہ یہ ایک نازک موضوع ہے اور ہر ذہن کے لیے اس کی تہہ تک پہنچنا ممکن نہیں ۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ "جب ہر چیز تقدیر میں لکھی ہوئی ہے اور اس سے مخالفت نہیں ہوسکتی تو پھر انسان سےجو گناہ سرزد ہوتے ہیں اس پر اس کی گرفت کیوں ہوتی ہے"تو واضح رہے کہ تقدیر سے مخالفت نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ انسان تقدیر کی وجہ سے بالکل بے اختیار اور مجبورِ محض ہے،  بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالی نے ایک حد تک کسب کا اختیار دیا ہے اور اسی اختیار کی بناپر جزا و سزا کا مستحق بنتا ہے۔اور تقدیر سے مخالفت نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی کی سب تفصیلات اللہ تعالی کو پہلے سے معلوم ہیں اور اللہ تعالی کا علم قطعی اور یقینی ہے اس لیے انسان زندگی بھر اختیا رسے جو کچھ کرتا ہے اللہ تعالی نے اس کو پہلے سے تقدیر میں لکھ دیا ہے ، چونکہ اللہ تعالی کا علم قطعی ہے اس لیے اس میں غلطی کا امکان نہیں اس لیے تقدیر سے خلاف ورزی نہیں ہوسکتی ۔

 

(وللعباد أفعال اختيارية يثابون بها)إن كانت طاعة (ويعاقبون عليها)إن كانت معصية، لا كما زعمت الجبرية :أنه لا فعل للعبد أصلا۔۔۔فإن قيل بعد تعميم علم الله تعالى و إرادته الجبر لازم قطعا؛ لأنّهما إما إن يتعلقا بوجود الفعل، فيجب أو بعدمه، فيمتنع ولا اختيار مع الوجوب والامتناع؟ قلنا: يعلم و يريد أنّ العبد يفعله أو يتركه باختياره فلا اشكال۔(شرح العقائد النسفية ، ص:203/211، مكتبةالبشرى)

(وهي) إي أفعال العباد (كلها)أي جميعهامن خيرها وشرها ، وإن كانت مكاسبهم (بمشيته)أي بإرادته (وعلمه)أي يتعلق علمه(وقضائه و قدره )۔۔۔والحاصل أنّ العبد ليس له أن يتعذر و يتعلق بالقضاء و القدر ، و فيه إشكال مشهور ذكرنا في تفسير قوله تعالى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُون﴾ (البقرة:6)حيث نزلت هذه الآية في قوم بأعيانهم علم الله منه أنهم لايؤمنون كأبي جهل و أبي لهب و غيرها(الروض الازهر في شرح فقه الأكبر لملّا علي القاري ، ص: 161۔166)


فتویٰ نمبر : 4835/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور