بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
چار پشتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شجرہ نسب یاد کرنا
سوال
ايک بڑے عا لم دين نے اپنے بیان میں یہ فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شجرہ نسب کو چار پشتوں تک یا د کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔مجلس میں لوگوں کو بھی یا د کروایا اور کہا کہ علماے کرام کو اگر چہ یاد ہوتا ہے لیکن وہ گمان کرتے ہیں کہ عوام کو بھی سلسلہ نسب یاد ہو گا اس وجہ سے یا دکرنے کی تاکید نہیں کرتے، اس مسئلے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ نسب ياد کرنا آپ سے محبت کی دلیل ہے ۔اور محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ سلسلہ نسب کو یاد کیا جائے تا ہم ہمیں بسا ط بھر کوشش کے باوجود نصوص میں کوئی ایسی دلیل نہ مل سکی جس میں نسب شریف کے یاد کرنے کا حکم دیا گیا ہو۔ اور اصول یہ ہے کہ قطعی الثبوت اور قطعی الدلالہ نص کے بغیر فرضیت ثابت نہیں ہوسکتی لہذا اس کو فرض قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ چنانچہ فتاوی تاتارخانیہ میں ہے کہ" کسی شخص کے مسلمان ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اسے نبی کریم کے اسم گرامی کی معرفت حاصل ہو" البتہ چارپشتوں تک نسب نامہ یاد رکھنے کو علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ نے بہتر قرار دیا ہے تا کہ حضور کی خوب معرفت حاصل ہو جائے۔
والفقهاء وإن ذكروا في الدعوى أنه يشترط للتعريف بيان النسب، ولكنه عندي فيما لم يكن الرجل معروفا، لا يعرف إلا بالآباء، أما إذا كان معروفا، تعرفه الغبراء والخضراء، ففي ذكر اسمه كفاية عن بيان نسبه،ومع ذلك الأولى أن يحفظ ثلاثة، أو أربعة من أجداده صلى الله عليه وسلم فإن حفظ كلهم، فهو أجود وأجود.(فیض الباری، کتاب الأنبیاء ، باب مبعث النبي صلى الله عليه وسلم،ج4،ص77)
لما في اليتيمىة سئل علي بن احمد هل يشترط في كو ن المرء مسلما معرفته اسم النبي صلى الله عليه وسلم اسم جده ام يكتفي فيه بمعرفة اسمه فقال بل يكتفي في صحة إسلامه بمعرفة اسمه۔(الفتاوی التاتارخانية ، كتاب أحكام المرتدين، فصل فيما يعود إلي الأنبياء ج7،ص301)