بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
ميت كے گھر ميں كھانا پكانے كاحكم
سوال
کیا میت کے گھر کسی خاص سبب مثلاً کسی شخص کی بیماری وغیرہ کی وجہ سے تین دن کے اندر کھانا پکانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ جس گھر میں فوتگی ہوجائے، تو چونکہ اس گھر کے لوگ غمزدہ اور رنجیدہ ہوتے ہیں اور ان کے دل و دماغ پر غم وحزن کی کیفیت طاری ہوتی ہے، اسی طرح ان کو میت کی تجہیز و تکفین کے مسائل بھی درپیش ہوتے ہیں، اس لیے شریعتِ مطہرہ نے ان کے پڑوسیوں، عزیز و اقارب کا یہ اخلاقی فريضہ ٹھہرایا ہے کہ وہ اہلِ میت اور ان کے قریبی رشتہ داروں کے لیے تین دن تک کھانے کا بندوبست کریں ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر ؓ کی شہادت کے موقع پر آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو ،اس لیے کہ ان کو ایسی خبر پہنچی ہے جو ان کو مشغول کرے گی ، یعنی جعفرؓ کی شہادت کی خبر سن کر صدمہ اور رنج میں مشغول ہوکر کھانے پینے کے انتظام کی خبر نہیں رہےگی۔البتہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان دنوں میں میت کے گھر کھانا پکانا جائز نہیں، بلکہ پڑوسیوں کو کھانا پکانے کا حکم صرف اس وجہ سے ہے کہ ان دنوں میں میت کے گھر والے غم و حزن اور تجہیز وتکفین میں مشغول ہوں گے، اس لیے پڑوسی ان کے لیے کھانے کا بندوبست کریں، تاہم اگر پڑوسیوں یا رشتہ داروں کی طرف سے کوئی اہتمام نہ ہو یا وہ اہتمام کریں لیکن میت کے گھر والے خود کوئی چیز پکانا چاہیں تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اصْنَعُوا لِأَهْلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا، فَإِنَّهُ قَدْ جَاءَهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ»۔(جامع الترمذي ، كتاب الصلاة ، أبواب الجنائز ، بَابُ مَا جَاءَ فِي الطَّعَامِ يُصْنَعُ لِأَهْلِ المَيِّتِ ، ج: 3 ص: 542 ، مكتبة البشرى)
ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم۔(ردالمحتار على الدرالمختار ، كتاب الصلوة ، باب صلوة الجنازة ، مطلب في الثواب على المعصيبة ، ج: 3 ص: 148)
ولو أوصى باتخاذ الطعام للمأتم بعد وفاته ويطعم للذين يحضرون التعزية، قال الفقيه أبو جعفر: يجوز ذلك من الثلث ويحل للذين يطول مقامهم عنده وللذي يجيء من مكان بعيد يستوي فيه الأغنياء والفقراء۔(الفتاوى الهندية ، كتاب الوصايا ، الباب الثاني في بيان الألفاظ التي تكون:6 ص: 112)