بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ایصالِ ثواب کے لیےمخصوص ایام میں ختمِ قرآن اور تقریب کا اہتمام کرنا


سوال

آج کل میت کے ایصالِ ثواب کے لیے مخصوص ایام، جیسےموت کے  تیسرے دن ایک اجتماع کا التزام کیا جاتا ہے، جس میں اجتماعی طور پر قرآن خوانی ، دعا اور کھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے ، تو شریعت کی رو سے اس کیا حکم ہے؟

جواب

            واضح رہے کہ میت کے ایصال ثواب کے لیے عزیز و اقارب کاقرآن پاک پڑھنا اور میت کے لیے دعا کرنا فی نفسہ جائز ہے ، البتہ مروجہ طریقہ پر میت کے ایصالِ ثواب کے لیے مخصوص ایام میں اجتماعی طور پر تعزیت کے لیے جمع ہونا اور اجتماعی قرآن خوانی کا مخصوص ایام میں واجب یا سنت ہونے کا اعتقاد رکھنا ایسے امور ہیں جن کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں ، اس لیے فقہائے کرام ؒ نے اس طرح کی تقریبات  جیسا کہ تیجہ،  دسواں، چالیسواں منانے کو بدعت کے زمرے میں شامل کیا ہے ۔

          لہذا صورت مسئولہ کے مطابق مردہ کے ایصالِ ثواب کے لیے مخصوص ایام میں خیرات و صدقات کرنا اور لوگوں کو دعوت دے  کر باقاعدہ تقریب اور اجتماع کا التزام کرنا شرعاً ممنوع ہے ۔

 

ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ". اهـ. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع۔(ردالمحتار على الدرالمختار ، كتاب الصلوة ، باب صلوة الجنازة ، ج: 3 ص: 148)

لأنّ الجهلة يعتقدونها سنة أو واجبة ، وكل مباه يؤدي إليه فمكروه۔(الدرالمختار ، كتاب الصلوة ، باب سجود التلاوة ، ج: 2 ص: 598)


فتویٰ نمبر : 4814/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور