بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قربانی کا نصاب


سوال

ایک شخص کی اہلیہ کے پاس ساڑھے تین تولہ سونا اور استعمال کے کپڑے  ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں ۔اسی طرح اس شخص نے اپنے بچوں  کے نام پلاٹ خریدا ہے  اس نیت سے کہ کل  اس   کو بیچ کر اس سے بچوں کی پڑھائی کے اخراجات  پورا کرو ں گا  اس پلاٹ کے صرف ایک لاکھ روپے ایڈوانس میں دئیے ہیں اور باقی پیسے ادا نہیں کیے     ۔ تو کیا   اس شخص  کی  اہلیہ اور اس شخص پر  قربانی واجب ہے ۔اگر ہاں     تو قربانی کے دن گزرنے کے بعد اس کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

           شرعی اعتبار   سےقربانی ہر اس مسلمان ( مردوعورت) پر واجب  ہوتی ہے جو عاقل ،بالغ اور مقیم ہو اور اس کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں ساڑھے سات تولہ  سونا یا ساڑھےباون تولہ چاندی یا چاندی کے نصاب کے بقدر  نقدی  یا ایسا  سامان موجود ہو جو اس کے حاجات اصلیہ سے زائدہو ۔

            صورت مسئولہ کے مطابق اگر اس شخص کی اہلیہ کے پاس صرف ساڑھے تین تولہ سونا  اور اس کے علاوہ   صرف استعمال کے کپڑے ہوں  تو اس  کی  اہلیہ پر قربانی واجب نہیں   ۔ اس لیے کہ ساڑھے تین تولہ سونا نصاب سے کم ہے ۔ 

جہاں تک پلاٹ پر قربانی کا مسئلہ ہے تو اگر یہ شخص پلاٹ بچوں کے نام خرید چکا ہو اور ان کو ہبہ بھی کر چکا ہو اور وہ نابالغ ہوں تو یہ پلاٹ بچوں کی ملکیت شمار ہوگی لہذا اس شخص پر قربانی  واجب نہ ہوگی او ر اگر   اولاد بالغ ہو تو محض ان کے نام خریدنے سے وہ اس کے مالک متصور نہ ہوں گے بلکہ ہبہ کرنے کے بعد ان کو باقاعدہ قبضہ دینے سے وہ مالک متصور ہوں گے چنانچہ اگر قبضہ نہ دیا ہو تو یہ شخص ہی اس کا مالک متصور ہوگا اسی طرح اگر صرف اولاد کے نام خریدا ہو لیکن مقصود ان کومالک بنانا نہ ہو  تب بھی یہ شخص خود اس کا مالک ہوگا،لہذا  پلاٹ کی کل  قیمت  سےبقیہ رقم  منہا کرنے کے بعد اگر باقی  رقم ساڑھے باؤن تولہ چاندی کی قیمت کے برابر  یا زائد ہو تو اس  پر قربانی واجب ہوگی۔اور قربانی کےایام میں قربانی نہ کرنے کی صورت میں  قربانی کے  دن گزرنے کے بعد  اس کی قیمت فقراومساکین پر صدقہ کر ےگا۔

 

وأما شرائط الوجوب منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة ۔ ۔ ۔ والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها۔(الفتاوى الهندية،كتاب الأضحية، الباب الأول،ج:5،ص:336)

(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) ۔ ۔ ۔ (تام فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) وفارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم.(الدرالمختارعلى صدر ردلمحتار، كتاب الزكوة،ج:3،ص:174)

( و ) تصدق ( بقيمتها غني شراها أولا ) لتعلقها بذمته بشرائها أولا فالمراد بالقيمة قيمة شاة تجزي فيها۔(الدرالمختار علی صدر ردالمحتار، کتاب الأضحية،ج:9 ،ص:465)


فتویٰ نمبر : 8931/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور