بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

جبرائیل علیہ السلام کا آپﷺ کے قدم مبارک چومنا


سوال

معراج کے  موقع پر جب جبرائیل علیہ السلام  نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپﷺ کو جگانے کے واسطے آپﷺکے قدم مبارک چومے تھے۔ کیا یہ واقعہ صحیح ہے؟

جواب

            واقعہ معراج نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہے  کہ جناب نبی کریم ﷺ کوحضرت جبرائیل علیہ السلام اپنے  ساتھ مکہ مکرمہ سے بیت المقدس لے گئے اور وہاں سے آسمانوں کا سفر کیا، جب کہ اس کے علاوہ دیگر کیفیات کے متعلق روایات کتبِ حدیث اور کتبِ تاریخ  میں مختلف ہیں، مثلا: جس وقت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائےتو اس وقت حضورﷺ اپنے گھر میں تھے یا کعبہ کے پاس ، وغیرہ۔

            جہاں تک اس واقعہ کا تعلق ہے کہ حضورﷺ کو جگانے کے واسطے جبرائیل علیہ السلام  نے آپﷺ کے قدم چومے تھے۔ یہ روایت ہمیں کسی مستند کتاب میں نہ مل سکی، البتہ واعظین نے اس کا تذکرہ کیا ہے، جیسے مولانا معین واعظ الکاشفی الہروی نے اپنی کتاب"معارج النبوۃ"(مترجم:385/2) میں اس کا تذکرہ کیا ہے، لیکن کوئی سند ذکر نہیں کی ہے اور  نہ ہی کسی کتاب کا حوالہ دیا ہے۔ ا یسے واقعات جو بلا سند و حوالہ  کے ذکر ہوں اُن کی  صحت کی  تحقیق کیے بغیر   نبی کریم ﷺ کی طرف نسبت کرکے ذکر کرنا جائز نہیں۔

 

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من كذب علي متعمدا، فليتبوأ مقعده من النار"۔(الصحيح لمسلم، باب في التحذير من الكذب على رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم، ج:1، ص:7)


فتویٰ نمبر : 4851/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور