بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
نقد سونا خرید کر قسطوں پر منافع کے ساتھ بیچنا
سوال
کیا سونا نقد خرید کر قسطوں پر منافع کے ساتھ بیچنا شرعا جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ جن دو چیزوں کی جنس مختلف ہوتو ان کی آپس میں خرید و فروخت کمی بیشی یا ادھار کے ساتھ کرنا شرعاً جائز ہے ، نیز قسط وار بیع میں زیادہ قیمت کے عوض اشیا فروخت کرنے میں بھی شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔
لہٰذا صورت مسؤلہ میں سونے کو نقداً خرید کر منافع کے ساتھ قسط وار بیچنا شرعاً جائز ہےبشرطیکہ سونے پر مجلس عقد میں ہی قبضہ کیا جائے اور اس شخص کے علاوہ کسی اور پر فروخت کیاجائے جس سے نقداً خریدا گیا ہے۔
قال وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنى المضموم إليه حل التفاضل والنساء لعدم العلة المحرمة. (الهداية، كتاب البيوع، باب الربو، ج:5،ص:177)
لأن للأجل شبها بالمبيع ألا يرى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل. (الهداية، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج:5،ص:161)
إذا اشترى فلوسا بدراهم وليس عند هذا فلوس ولا عند الآخر دراهم ثم إن أحدهما دفع وتفرقا جاز وإن لم ينقد واحد منهما حتى تفرقا لم يجز كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية، كتاب الصرف، الفصل الثالث، ج:3،ص:209)