بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
طلاق قبل النكاح اور طلاق کلما کا حکم
سوال
ایک لڑکا کہتا ہے کہ میں نے ان دو جملوں میں سے ایک جملہ کہا ہے (۱)"کہ مہ دے جینے سرہ نکاح وکو کلہ ہم، دہ ما باندے دہ اوس نہ طلاقہ دہ"(اگر میں اس لڑکی سے نکاح کروں جب بھی، تو یہ مجھ پر ابھی سے طلاق ہے) (۲) "کہ مہ دے جینے سرہ کلہ ہم نکاح وکڑہ دہ بہ پہ ما طلاقہ وی "(اگر میں نے کبھی بھی اس لڑکی سے نکاح کیا تو یہ مجھ پر طلاق ہوگی)، لیکن اس کا غالب گمان یہ ہے کہ میں نے پہلا جملہ کہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں جملوں کا حکم کیا ہے ؟ اگر طلاق واقع ہوگی تو اس سے بچنے کی کیا صورت ہوگی؟
جواب
واضح رہے کہ طلاق کے لیے ملک ضروری ہے اگر کوئی شخص نکاح سے پہلے کسی عورت کو طلاق دے تو ملک نہ ہونے کی وجہ سے طلاق واقع نہ ہوگی، تاہم اگر طلاق کو نکاح کے ساتھ معلق کیا تو نکاح ہوتے ہی طلاق واقع ہو جائے گی۔
صورت مسٔولہ میں اگر مذکورہ لڑکے نے پہلا جملہ کہا ہو کہ " کہ مہ دے جینے سرہ نکاح وکو کلہ ہم، دہ ما باندے دہ اوس نہ طلاقہ دہ"(اگر میں اس لڑکی سے نکاح کروں جب بھی، تو یہ مجھ پر ابھی سے طلاق ہے) ،تو یہ چونکہ طلاق قبل النکاح ہے اس لیے اس صورت میں یہ طلاق لغو ہے ،چنانچہ اگر یہ دونوں نکاح کریں تو طلاق واقع نہ ہوگی، لیکن اگر اس نے دوسرا جملہ کہا ہو کہ" کہ مہ دے جینے سرہ کلہ ہم نکاح وکڑہ دہ بہ پہ ما طلاقہ وی"(اگر میں نے کبھی بھی اس لڑکی سے نکاح کیا تو یہ مجھ پر طلاق ہوگی)، تو اس صورت میں یہ طلاق ،طلاق کلما ہے ، جو کہ مخصوص لڑکی کے نکاح کے ساتھ معلق ہے ، اس کا حکم یہ ہے کہ لڑکا جب بھی اس لڑکی کے ساتھ نکاح کرے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی۔
اگر واقعتا لڑکے کا غالب گمان یہ ہو کہ اس نے پہلا جملہ بولا ہے تو پہلے جملے میں چونکہ طلاق لغو ہے اس لیے اس کا نکاح جائز ہے، کیونکہ غالب گمان یقین کے حکم ہے ۔
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لا طلاق إلا فيما تملك، ولا عتق إلا فيما تملك، ولا بيع إلا فيما تملك" (سنن أبي داؤد، كتاب الطلاق، باب في الطلاق قبل النكاح،رقم الحديث:2190)
ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك۔۔۔ فإن قال لأجنبية إن دخلت الدار فأنت طالق ثم تزوجها فدخلت الدار لم تطلق " لأن الحالف ليس بمالك ولا أضافه إلى الملك أو سببه ولا بد من واحد منهما. (الهداية، كتاب الطلاق، باب الأيمان في الطلاق، ج:3، ص: 196، مكتبة البشرى)
ولو دخلت كلمة كلما على نفس التزوج بأن قال: كلما تزوجت امرأة فهي طالق أو كلما تزوجتك فأنت طالق يحنث بكل مرة وإن كان بعد زوج آخر هكذا في غاية السروجي. (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق،الفصل الأول:في الفاظ الشرط، ج:1، ص:480)
اليقين لا يزول بالشك، اليقين عند الفقهاء هو جزم القلب بوقوع الشيء أو عدم وقوعه،ويليه الظن الغالب وهو تجويز أحدهما أقوى من الآخر فهو بمنزلة اليقين حكما۔ (شرح المجلة لخالد الأتاسي، المادة:4، ج:1، ص:18)