بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
شک کی صورت میں حرمت رضاعت کا حکم
سوال
ایک لڑکےکو اپنی دادی نے بچپن میں رونے سے خاموش کرنے کے لیے اپنی چھاتی پرلیالیکن وہ نہیں لے رہاتھا، دادی کو اس بات میں شک ہے کہ اس نے دودھ پیا تھا یا نہیں ، اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ لڑکا اپنی پھوپھی زادبہن سے نکاح کرنا چاہتا ہے، کیا ان دونوں کا آپس میں نکاح جائز ہے یانہیں؟ کیا شک کی وجہ سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب
حرمت رضاعت کے ثبوت کےلیے دودھ کی کوئی خاص مقدار مقرر نہیں ہے ، دودھ کی قلیل مقدار کےمتعلق اگریہ یقین ہوجائے کہ دودھ معدے تک پہنچ گیا ہے ،تواس سے بھی حرمت ثابت ہوجائے گئی، جس کی وجہ سے رضیع اور مرضعہ کے اصول وفروع ایک دوسرے پر حرام ہوجاتے ہیں، البتہ اگر دودھ پینے میں شک ہو کہ بچے نے دودھ پیا ہے یا نہیں ، تو محض شک کی بنا پر حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر دادی کو دودھ پینے میں واقعی شک ہو تو شک کی بنا پر حرمت ثابت نہیں ہوتی ، لہذا لڑکے کےلیے پھوپھی زادبہن سے نکاح کرنا جائز ہے البتہ احتیاط کےطور پر اس نکاح سے اجتناب بہترہے۔
المرأة إذا جعلت ثديها في فم الصبي ولا تعرف أمص اللبن أم لا ففي القضاء لا تثبت الحرمة بالشك وفي الاحتياط تثبت۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الرضاع، ج:1، ص:410)
فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم لأن في المانع شكاولوالجية۔قال ابن عابدین:وفي القنية امرأة كانت تعطي ثديها صبية واشتهر ذلك بينهم ثم تقول لم يكن في ثديي لبن ألقمتها ثديي ولم يعلم ذلك إلا من جهتها جاز لابنها أن يتزوج بهذه الصبية اه ط وفي الفتح لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك ۔(ردالمحتار، کتاب النکاح، باب الرضاع، ج:4، ص:402)