بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 03/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

میت کےناخنوں پرپالش کےہوتےہوئےغسل دینا


سوال

ایک عورت فوت ہوچکی ہے،جس کےناخنوں پرپالش لگی ہوئی ہے،تواس کےہوتےہوئے غسل درست ہوگا،یاغسل درست ہونےکےلیےپالش کوناخنوں سےزائل کرنالازم ہوگا؟

جواب

               فقہائےکرام کی تصریحات کےمطابق میت کاغسل بھی زندہ کےغسل کی طرح ہے،چنانچہ بدن پر جہاں تک بغیرحرج کےپانی پہنچاناممکن ہو،وہاں تک پانی پہنچاناضروری ہے۔

              لہذاصورتِ مسؤلہ کےمطابق اگرایک عورت فوت ہوجائے،اوراس کےناخنوں پرپالش لگا ہواہو،تواگروہ پالش تہہ والا ہواوراس کےزائل کرنےمیں مشقت نہ ہو،توغسل سےپہلےاس کوزائل کیاجائےگا،البتہ اگرپالش کی جگہ ایسارنگ لگاہواہو،جو پانی پہنچنےسےمانع نہ ہوتا،جیسےمہندی کارنگ ،تواس کےہوتےہوئےغسل درست ہوگا۔

 

فمافی غسله حرج کداخل العین یسقط،ومالاحرج فیه یبقی.(شرح النّقایه،کتاب الطّھارۃ،فرائض الغسل،ج1ص35)

 قوله :(ونزعوا ثيابه ) لأن الغسل بعد الموت كالغسل في حال الحياة . (الجوھرۃالنّیرہ،کتاب الصّلوۃ،باب الجنائز،مطلب فی غسل المیت،ج1ص255)

(ویجب)أی یفرض(غسل)کل  مایمکن من البدن بلاحرج مرۃ...(لا)یجب(غسل مافیه حرج کعین)...(و)لایمنع(ماعلی ظفرصباغ و)لا(طعام بین أسنانه)أوفی سنه المجوف.به یفتی.وقیل:إن صلبا،منع.(الدّرالمختار،کتاب الطّھارۃ،مطلب فی أبحاث الغسل،ج1ص285)


فتویٰ نمبر : 4800/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور