بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عمرہ کے طواف میں دو چکر لگانے کے بعد طواف ترک کرنا


سوال

 ایک آدمی نے عمرہ کا احرام باندھا اور طواف شروع کیا، ایک یا دو چکر لگائے  لیکن طبیعت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے طواف چھوڑ کر صفا  مروہ کی سعی کی اور حلق کرکے احرام کھول دیا اور واپس اپنے ملک آگیا ،اب اس شخص کے عمرہ کا کیا حکم ہے؟

جواب

         فقہائے کرام ؒ کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ عمرہ کا صرف ایک ہی رکن ہے اور وہ ہے طواف کرنا ، پھر طواف کے کم ازکم چار چکر  رکن کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص چار چکر مکمل کرنے سے پہلے طواف ترک کردے تو رکن ادا نہ کرنے کی وجہ سے عمرہ ادا نہ ہوگا ۔

          لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص عمرہ کا احرام باندھے اور طواف کے ایک یا دو چکر لگانے کے بعد طواف چھوڑدےاور سعی کرکے احرام کھول دے  تو اس کا عمرہ ادا نہ ہوگا ، لہذا عمرہ فاسد ہونے کی بنا پر اس کے ذمے عمرہ کی قضا اور کفارے کے طور پر ایک دم ادا کرنا واجب ہے۔

 

 

(وأما) ركنها فالطواف لقوله عز وجل {وليطوفوا بالبيت العتيق} [الحج: 29] ؛ ولإجماع الأمة عليه۔۔۔ وإذا فسدت يمضي فيها ويقضيها وعليه شاة لأجل الفساد عندنا. (بدائع الصنائع ، كتاب الحج ، باب العمرة ، ج: 3 ص: /306304)

فإن رفضها فعليه دم لرفضها وعمرة مكانها۔۔۔قالوا وهذا دم كفارة أيضا۔(الھدایة ، كتاب الحج،  باب إضافة الإحرام إلى الإحرام ، ج: 1 ص: 312)

فالإحرام شرط و معظم الطواف ركن وغيرها من أقل أشوط الطواف والسعي ولحلق والتقصير واجب ۔(غنية الناسك ، كتاب الحج ، باب العمرة ، ص:196)


فتویٰ نمبر : 8911/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور