بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
سونے ميں گزشتہ سالوں کی زکوۃ اداكرنے کا طریقہ
سوال
میرے پاس دس تولہ سونا ہے چھ سال ہو گئے میں نے ایک سال کی زکوۃ بھی ادا نہیں کی ہے اب زکوۃ ادا کرنے کرنا چاہتا ہوں اس کا کیا طریقہ ہوگا ؟ چھ سال قبل سونے کی قیمت پچاس ہزار تھی اس حساب سے ادا کروں گا یا اج کے ریت کے حساب سے یا ہر سال کی قیمت کے اعتبار سے؟
جواب
جب کوئی شخص بقدرِ نصاب مال کا مالک بن جائےتو جب تک وہ صاحبِ نصاب رہے تب تک اس پر ہر سال تمام اموالِ زکوۃ میں سے ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کرنا لازم ہو تا ہے۔ لہذا اگر کسی نے صاحبِ نصاب بننے کے بعد کئی سال تک زکوۃ ادا نہ کی ہو تو اس پر گزشتہ تمام سالوں کی زکوۃ ادا کرنا ضروری ہوگا، جس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے سال کی زکوۃ کے لیے اس سال موجود تمام اموالِ زکوۃ (سونا، چاندی، نقدی اور مالِ تجارت) سے ڈھائی فیصد کا حساب لگا لیاجائے، پھر اگلے سال اس ڈھائی فیصد کو منفی کرکے بقیہ مال کے ڈھائی فیصد کا حساب لگا لیا جائے، اسی طرح ہرسال کی زکوۃ کا حساب لگانے کے لیے اس سے پچھلے سال کی زکوۃ کو منفی کر کے بقیہ مال کے ڈھائی فیصد کا حساب لگایا جائے اور پھر تمام سالوں کی واجب شدہ زکوۃ کا مجموعہ ادا کرے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جس سال سے سونے کی زکوۃ ادا نہیں کی ہے ، پہلے اس سال میں موجود سونے سے ڈھائی فیصد سونے کا حساب لگائے پھر اگلے سال کی زکوۃ کے لیے اس ڈھائی فیصد سونے کو منفی کر کے بقیہ سونے کے ڈھائی فیصدکا حساب لگائے اس طرح ہر سال کی زکوۃ کے لیےپچھلے سال کی زکوۃ منفی کر کے بقیہ سونے کے ڈھائی فیصد کا حساب لگا لے۔ اسی طرح تمام سالوں کی زکوۃ کاحساب لگانے کے بعد اس کے مجموعہ کو معلوم کرے، جتنا سونا بن جائے، وہ سونا یا اس کی قیمت کسی مستحق زکوۃ شخص کو تملیکاً دے دے۔اگر چند سالوں کی زکوۃ منفی کرنے کے بعد سونا نصاب سے کم رہ جائے اور سونے كے علاوه نقدی، چاندی اور مال تجارت کچھ نہ ہو تو بقیہ سالوں کی زکوۃ لازم نہ ہوگی۔
وبيان ذلك أنه إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة.۔۔ وكذا هذا في مال التجارة، وكذا في السوائم۔ (بدائع الصنائع، كتاب الزكوة،ج:2،ص:387)
وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا۔ (بدائع الصنائع، كتاب الزكوة،ج:2،ص:418)