بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
طلاق کلما کا حکم
سوال
اگرزید نے بکر پر چوری کا شک کرتے ہوئےکہا کہ تم تمہیں کلما طلاق ہو کہ تم نے فلاں سے پیسے چوری نہیں کی ہے؟ جواب میں بکر نے کہا کہ ہاں میں نے پیسے چوری نہیں کی ہے، حالانکہ حقیقت میں بکر نے پیسے چوری کئے تھے، جبکہ بکراس وقت پندرہ سال کا تھا، لیکن کلما طلاق کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا، تو کیا مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ اگر طلاق واقع ہو تو اس کو ختم کرنے کا طریقہ کیا ہوگا ؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی یہ کہہ دے کہ مجھ پر کلما طلاق ہے ، تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، البتہ اگر اس کی جگہ یہ الفاظ کہے کہ " کلما تزوجت امرأة فهي طالقة" يا اردو ميں كہے کہ " جب کبھی میں نکاح کروں تو میری بیوی کو طلاق ہے" تو اس صورت میں یہ شخص جب بھی نکاح کرے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی۔
صورت مسٔولہ میں اگر زید نے صرف یہ کہا کہ تمہیں کلما طلاق ہو اور بکر نے کہا ہاں تو اس سے نکاح کے بعد کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔
قد اشتهر في رساتيق شروان أن من قال جعلت كلما أو علي كلما أنه طلاق ثلاث معلق، وهذا باطل ومن هذيانات العوام۔ فتأمل.( رد المحتار ، كتاب الطلاق، باب الصريح، ج:4، ص:457)