بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اپنی تیار کردہ مصنوعات پر کسی مشہور کمپنی کا لیبل لگانا


سوال

بعض لوگ اپنی تیارکردہ مصنوعات پر کسی مشہور اور معیاری کمپنی کا لیبل لگاتے ہیں ، جس کے نتیجے میں اپنی مصنوعات کو اس مشہور کمپنی کے پراڈکٹ کے نام سے فروخت کرتے ہیں ،تو کیا یہ اس مشہور کمپنی کی حق تلفی نہیں اور کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟

جواب

          کسی مشہور کمپنی کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنی مصنوعات پر اس کا لیبل لگانا اس بات کو ظاہر کرناہے کہ یہ پراڈکٹ اسی کمپنی کی بنائی ہوئی ہے اور اس سےمقصد یہ ہوتا ہے کہ خریدار مشہور کمپنی کا لیبل دیکھ کر یہ تصور کرے  کہ یہ اس مشہور کمپنی کی مصنوعات ہیں اور ان پراڈکٹس کا وہی معیار اور کوالٹی ہے جس مشہور کمپنی کا اس پر لیبل لگا ہوا ہےاور وہ خریداری کے لیے مائل ہوجائے، جبکہ حقیقت میں یہ مصنوعات اس کمپنی کی بنائی ہوئی نہ ہوں تو یہ دراصل گاہک کو دھوکہ دینا ہےجوشرعاً جائز نہیں،نیز اس میں لیبل والی مشہور کمپنی کے حق کا استحصال  بھی ہے ۔اسی طرح دوسری کمپنیوں کےرجسٹر ڈ نام اور ٹریڈ مارک استعمال کرنا اور اس کو اپنی مصنوعات پر لگانا قانوناً بھی جرم  ہے ، لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔

 

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني»۔(الصحيح لمسلم ، كتاب الإيمان ، باب قول النبي ﷺ من غش فليس منا ، ج: 1 ص: 70)

"وهذاالحكم،أي وجوب طاعة الأميرمختص بمالم يخالف أمره الشّرع ،يدلّ عليہ سیاق الآیۃ؛فإنّ اللہ تعالی أمر الناس بطاعۃ أولی الأمر بعد ماأمرھم بالعدل في الحکم،تنبیھاعلی أنّ طاعتھم واجبۃ ما داموا علی العدل"(أحكام القرآن،التھانوي ،ج: 2 ص:229 )


فتویٰ نمبر : 4781/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور