بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حادثاتی موت کی ذمہ داری


سوال

ایک مشترک جگہ  کوتقسیم کیاگیا،درمیان میں مضبوط سیدھی دیوارتھی،دیوارسےایک جانب کی زمین ایک شریک کےحصےمیں،جب کہ دوسرےجانب کی زمین دوسرےشریک کے حصےمیں آئی،ایک شریک نےاپنےحصےمیں دیوارسےمتصل کچھ زمین وقف کرکے اس پرمسجداوروضوخانہ بنایا،بارش اورآندھی میں ایک شخص مسجدکےوضوخانےمیں وضوکررہاتھاکہ اس پردیوارسےاینٹ گرکراس سےاس کےکمرکی ہڈی ٹوٹ گئی،پھردورانِ آپریشن وہ شخص مرگیا۔سوال یہ ہے کہ میت کی دیت مسجد کےمتولی پر لازم ہوگی یا دیوارکےمالک پرلازم ہوگی؟

جواب

            قتل کی اقسام میں سےسب سےکم درجہ قتل بالسبب ہے،جس کامطلب یہ ہےکہ کوئی شخص بالواسطہ کسی کی ہلاکت کاباعث بنے،جیسے:دوسرےکی زمین میں بلااجازت کنواں کھودے یاراستہ میں پتھروغیرہ رکھ دے،اوراس کنویں میں گرکریااس پتھرپرٹھوکرکھاکرکسی کی موت واقع ہوجائے،اس کےعلاوہ جوحادثاتی اموات ہوتی ہیں،وہ قتل کی کسی قسم میں داخل نہیں۔

          صورتِ مسؤلہ کےمطابق اگرواقعی مضبوط اورسیدھی دیوارسےبارش اورآندھی کی وجہ سےاینٹ گری ہو،جس سےمسجدکےوضوخانےمیں وضوکرنےوالےشخص کےکمرکی ہڈی ٹوٹ گئی ہو،اوردورانِ آپریشن وہ شخص مرگیاہو،تویہ قتل کی کسی قسم میں داخل نہیں،اس لیےمیت کی دیت نہ مسجد کےمتولی پرلازم ہے،اور نہ دیوارکےمالک پرلازم ہے۔

 

عن أبي هريرة رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " الشهداء خمسة: المطعون، والمبطون، والغرق، وصاحب الهدم، والشهيد في سبيل الله "(الصحیح للبخاری،کتاب الجھاد،باب الشّھادة سبع سوی القتل،ج2،ص767)

الدية المال الذي هو بدل النفس... ثم الدية تجب في قتل الخطأ وما جرى مجراه وفي شبه العمد وفي القتل بسبب وفي قتل الصبي والمجنون(الفتاوی الھندیة،کتاب الجنایات،الباب الثّامن:فی الدّیات،ج6ص30)


فتویٰ نمبر : 4778/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور