بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
جسم جلنے کے بعد وضویاتیمم کا حکم
سوال
میرا سسر ایک فیکٹری میں ملازم ہے دو دن پہلے ان کے فیکٹری میں آگ لگی جس کی وجہ سے وہ شدید جلس گیا ہے اور بدن کا اکثر حصہ متاثر ہے اور ہسپتال میں داخل ہےاب پوچھنا یہ ہے کہ اب اس کے وضو کا کیا حکم ہےیعنی نماز کس طرح ادا کرے گا شریعت کے رو سے راہنمائی فرمائیں؟
جواب
اگر کسی شخص کے لیے جل جانے کی وجہ سے پانی کا استعمال مضر اور نقصان دہ ہو تو اس صورت میں اگر وہ مسح پر قادر ہو ، اور وہ خود مسح کرسکتا ہویاکوئی اور ایسا شخص موجود ہوجو اس کی مددکرے تو ایسی صورت میں مذکورہ شخص مسح کرکے نماز پڑھ لے، جس کی صورت یہ ہوگی کہ پانی سےہاتھ گیلا کرے وضو کے وقت اعضاءِ وضو پرتر ہاتھ پھیر دے، اور غسل کے لیے پورے جسم پر گیلا ہاتھ پھیر دے،تا ہم اگر مسح سے بھی اس کونقصان پہنچتا ہوتو پھر اگر اس کے جسم پر پٹی بندھی ہوئی نہ ہو تو اگر خود یا کوئی اورشخص اس کو تیمم کراسکتا ہو تو وہ تیمم کرلے، البتہ اگرتیمم سے بھی اس کو نقصان پہنچتا ہو ،تو پھرایسےشخص کےمتعلق فقہاےکرام نےلکھاہےکہ وہ نمازیوں کی مشابہت اختیار کرے گا یعنی وضواورتیمم کئے بغیر نماز یوں کی مشابہت کرتا رہے ۔ لیکن جب وضو یا تیمم میں کسی پر قادر ہوجائے تو ان نمازوں کا اعادہ کرے گا۔
(والمحصور فاقد) الماء والتراب (الطهورين) بأن حبس في مكان نجس ولا يمكنه إخراج تراب مطهر، وكذا العاجز عنهما لمرض (يؤخرها عنده: وقالا: يتشبه) بالمصلين وجوبا، فيركع ويسجد، إن وجد مكانا يابسا وإلا يومئ قائما ثم يعيد كالصوم (به يفتى وإليه صح رجوعه) أي الامام كما في الفيض۔(قوله وقالا يتشبه بالمصلين) أي احتراما للوقت. قال ط: ولا يقرأ كما في أبي السعود، سواء كان حدثه أصغر أو أكبر. اهـ. قلت: وظاهره أنه لا ينوي أيضا؛ لأنه تشبه لا صلاة حقيقية تأمل (ردالمحتار،باب التیمم ،ج:1ص:423)
في أعضائه شقاق غسله إن قدر وإلا مسحه وإلا تركه ولو بيده، ولا يقدر على الماء تيمم، ولو قطع من المرفق غسل محل القطع۔قوله: (شقاق) هو بالضم. وفي التهذيب قال الليث: هو تشقق الجلد من برد أو غيره في اليدين والوجه: وقال الأصمعي: الشقاق في اليد والرجل من بدن الإنسان والحيوان، وأما الشقوق فهي صدوع في الجبال والأرض (يقدر على الماء) أي على استعماله لمانع في اليد الأخرى، ولا يقدر على وضع وجهه ورأسه في الماء".(ردالمحتار،باب التیمم ،ج:1ص:427)