بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

میاں بیوی کا طلاق میں اختلاف


سوال

 زید کی بیوی اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلی، اور بیس، پچیس دن بعد واپس آئی، اب زید اس کو اپنے گھر میں رکھنےپر راضی ہے اگرچہ اس کے والدین اس پر راضی نہیں ہیں، لیکن بیوی کا دعوی ہے کہ خاوند  اس کو طلاق دے چکا ہے، جب کہ زید اس سے انکار کر رہا ہے۔ اس مسئلے کا شرعا کیا حکم ہے؟

جواب

          جب طلاق کے معاملے میں میاں بیوی کے درمیان اختلاف ہوجائے، بیوی طلاق کا دعوی کرتی ہو جب کہ شوہر انکار کر رہا ہو تو اس  صورت میں چونکہ بیوی مدعیہ ہے اس لیے اسے اپنے دعوی پر دو گواہ پیش کرنا ضروری ہے، اگر وہ گواہوں  کو پیش کرنے سے قاصر رہی تو شوہر کو قسم دی جائےگی۔

            صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ عورت کے پاس   اپنےدعوی پر دو گواہ موجود ہوں،یا شوہر طلاق کا اقرار کرے تو طلاق واقع ہوگی ، اور اگر عورت دو گواہ   پیش کرنے سے قاصر رہی تو شوہر کو قسم دی جائےگی، اگر شوہر نے قسم کھائی کہ اس نے اسے طلاق نہیں دی ہے تو قضاءً یہ عورت بدستور اس کی بیوی رہےگی۔ تاہم اگر عورت کو یقین ہو کہ شوہر نے اسے  تین طلاقیں دی ہیں لیکن وہ ثابت کرنے سے قاصر ہو  تو اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس کو اپنے آپ پر قدرت دے، بلکہ اپنے والدین کے گھر بیٹھ کر یا کچھ رقم وغیرہ دے کر  حتی الوسع جان چھڑانے کی کوشش کرے، اگر کوشش کے باوجود کسی طرح بھی جان نہ چھوٹےتو اس صورت میں عدالت میں تنسیخ نکاح کے لیے درخواست دے کرجان چھڑانے کی کوشش کرے، اگر یہ بھی ممکن نہ ہوتو عورت عنداللہ معذور ہوگی،اور سارا گناہ مرد پر ہوگا۔

 

وإن اختلفا في وجود الشرط فالقول له إلا إذا برهنت. (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الثالث،490/1)

وكذلك إن سمعت أنه طلقها ثلاثا وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه(الفتاوى الهندية، كتاب الکراھیة، الباب الثاني،361/5)

وقال الأوزجندي: ترفع الأمر للقاضي، فإن حلف ولا بينة فالإثم عليه. وقال ابن عابدین: (قوله: فالإثم عليه) أي وحده، وينبغي تقييده بما إذا لم تقدر على الافتداء، أو الهرب (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الطلاق، باب الرجعة،55/5)


فتویٰ نمبر : 6296/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور