بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
چوری کردہ رقم کی واپسی
سوال
زید نے عمرو سے سال 1996میں پانچ ہزار روپے چرائے تھے اور ااس سے زمین خریدی ۔آج کل زمین کی قیمت تقریباً کروڑوں میں ہے ،اب زید اس کو وہ پیسے واپس کرنا چاہتا ہے ،تو کیا صرف پانچ ہزار روپے واپس کرے گا یا اس سے جو آمدنی ہوئی ہے وہ بھی واپس کرے گا؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے چوری کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ اس میں اللہ تعالی کے حکم کی خلاف ورزی بھی ہے اور بندوں کے حق کو ضائع کرنا اور دوسرے کے مال میں اس کی اجازت و رضامندی کے بغیر تصرف کرنا بھی ہے ، تاہم اگر کوئی شخص چوری شدہ رقم سے خرید و فروخت کرکے اس سے نفع کمائے تو اس صورت میں صحیح قول کے مطابق کمایا ہوا نفع استعمال كرنے كی گنجائش ہے اور اس کا مالک کو لوٹانا ضروری نہیں بلکہ صرف چوری کردہ رقم کے بقدر مال مالک کو لوٹانا ضروری ہے ۔لیکن واضح رہے کہ قصداً و عمداً کسی کا مال باطل طریقے سے حاصل کرکے اس سے تجارت وغیرہ کرنا کسی صورت میں جائز نہیں ۔
صورتِ مسئولہ میں زید کے ذمے عمرو کو صرف چوری کردہ رقم (پانچ ہزار روپے)لوٹانا لازم ہے ،اس سے کمايا ہوا نفع مالک کو لوٹانا ضروری نہیں۔
(كما لو تصرف في المغصوب الوديعة) بأن باعه (وربح) فيه (إذا كان) ذلك (متعينا بالإشارة أو بالشراء بدراهم الوديعة أو الغصب ونقدها) يعني يتصدق بربح حصل فيهما إذا كانا مما يتعين بالإشارة وإن كانا مما لا يتعين فعلى أربعة أوجه فإن أشار إليها ونقدها فكذلك يتصدق (وإن أشار إليها ونقد غيرها أو) أشار (إلى غيرها) ونقدها (أو أطلق) ولم يشر (ونقدها لا) يتصدق في الصور الثلاث عند الكرخي قيل (وبه يفتى) والمختار أنه لا يحل مطلقا كذا في الملتقى ولو بعد الضمان هو الصحيح كما في فتاوى النوازل واختار بعضهم الفتوى على قول الكرخي في زماننا لكثرة الحرام وهذا كله على قولهما. وعند أبي يوسف لا يتصدق بشيء منه كما لو اختلف الجنس۔(الدرالمختار ، كتاب الغصب ، مطلب في رد المغصوب ، ج:5 ص:183)
والخبث لفساد الملك دون الخبث لعدم الملك فيوجب شبهة الخبث فيما يوجب فيه عدم الملك حقيقة الخبث، وهو ما يتعين كالجارية في مسألتنا ويتعدى إلى بدلها.وشبهة الشبهة فيما يوجب فيه عدم الملك الشبهة وهو ما لا يتعين، وشبهة الشبهة غير معتبرة ۔ (فتح القدير، كتاب البيوع ، باب البيع الفاسد ، فصل في أحكامه ، ج:29 ص: 116)