بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

زنا کا حمل چھ ماہ بعد ساقط کرنا


سوال

اگر ایک عورت کے ساتھ زنا کیا گیا ہو تو کس مدت تک اسقاطِ حمل کی گنجائش ہے ،میری ایک میڈیکل کالج سے وابستگی ہے ، ہمارے پاس ایک عورت آئی ،جس کے ساتھ اس کے بہنوئی نے زنا کیا تھا اور اس کے حمل پر تقریباً چھ ماہ بھی گزرگئے ہیں ،تو کیا اس حمل کی اسقاط جائز ہے یا نہیں ، جبکہ ڈاکٹرز حضرات اس کے اسقاط کے لیے راضی ہوگئےہیں؟

جواب

            شریعتِ مطہرہ نے انسانی جان کے تحفظ اور احترام کی خاطر ناحق قتلِ نفس کو حرام قرار دیا ہے،خواہ وہ ماں کے پیٹ میں جنین  کی صورت میں کیوں نہ ہو ،چنانچہ جب ماں کے پیٹ میں حمل ٹھہر جائے تو اس کے بعد اس کو بلا عذرساقط کرنا شرعاً جائز نہیں ،چاہے وہ حمل زنا سےہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ حمل اگر چہ زنا سے ہو پھر بھی وہ محترم ہے کیونکہ اس کا خود کوئی قصور نہیں ۔تاہم اگر کوئی عورت زنا سے حاملہ ہوجائے ،توحرام نطفہ کے اسقاط میں اگر اس کو دیکھا جائے کہ ایک خاندان کی عزت کا مسئلہ درپیش ہے اور ایک عورت کے گناہ پر پردہ ڈالنا ہے ،اسی طرح اگر واقعۃ ً اس بات کا اندیشہ ہو کہ حمل کا پتہ چل جانے پر عورت کو غیرت کے نام پر قتل کردیا جائے گا ،تو بظاہر یہ بھی عذر کے درجہ میں ہوکر چار مہینوں تک اسقاط کروانے کی گنجائش ہے ۔ليكن جس حمل پر چار ماه گزرجائيں تو پهر اگر حمل زنا سے ہو تب بھی اس کو ساقط کرنے کی گنجائش نہیں ،کیونکہ شدید ترین جبر واکراہ کے باوجود یہ جائز نہیں کہ انسان اپنی جان بچانے کے لیے دوسرے کی جان لے ،تو یہاں یہ بھی  جائز نہیں ہوسکتا کہ والدہ کی جان بچانے کی خاطر بچے کی جان لے کر اسقاط کیا جائے ۔

             لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق جب حمل پر چار ماہ گزرجائیں تو پھر کسی صورت اس کا اسقاط جائز نہیں اس لیے کہ چار ماہ میں بچے کے اعضا مکمل ہوکر اس کے اندر روح ڈالی جاتی ہے، تو اس وقت اسقاطِ حمل قتلِ نفس کے مترادف ہے۔

 

يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغۃ أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة كذا في خزانة المفتين.وهكذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوى الهندية ، كتاب الكراهية ، الباب الثامن عشر في التداوي و المعالجات ، ج: 5 ص: 412)

وفي الذخيرة: لو أرادت إلقاء الماء بعد وصوله إلى الرحم قالوا إن مضت مدة ينفخ فيه الروح لا يباح لها وقبله اختلف المشايخ فيه والنفخ مقدر بمائة وعشرين يوما بالحديث(ردالمحتار، كتاب النكاح، باب الاستبراء وغيره، ج:6،ص:374)


فتویٰ نمبر : 4770/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور