بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قربانی کا گوشت مزدوروں کو کھلانا


سوال

اگر کسی شخص کے گھر میں مزدور کا م کررہے ہوں، تو کیا اس کے لیے جائز ہے کہ ان کو قربانی کا گوشت کھلائے یا نہیں؟

جواب

            قربانی کاگوشت خود کھانایا اغنیا، فقرا سب کوکھلانا جائز ہے۔ تاہم بغیر کسی عوض اور معاوضہ کے تبرعاً دینایا کھلانا لازم ہے کسی اجرت کے عوض دینا یا کھلانا جائز نہیں ۔

            لہذا صورتِ مسئولہ میں جو ملازم اور نوکر اس طرح سے رکھا ہوا ہو کہ اس کا کھانا بھی تنخواہ کا حصہ ہو، تو ایسی صورت میں اس کو قربانی کا گوشت تنخوہ کا حصہ سمجھ کر  کھلانا جائز نہیں ، البتہ اگر  تنخواہ میں کھانے کی شرط نہ لگائی گئی ہو بلکہ یہ شخص تبرعاً اپنی طرف سے کھلائے تو پھر مزدور کو  قربانی کا گوشت کھلانےمیں شرعاً کوئی  حرج نہیں۔

 

و لا يعطى جلد الأضحية و لا لحمها بأجرة الذابح و السلاخ۔(فتاوى قاضيخان ۔ كتاب الأضحية ، ج:3 ص: 249)

(ولا يعطى أجر الجزار منها) لأنه كبيع ۔قال ابن عابدينؒ:(قوله لأنه كبيع) لأن كلا منهما معاوضة،لأنه إنما يعطى الجزار بمقابلة جزره والبيع مكروه فكذا ما في معناه كفاية (قوله واستفيدت إلخ) كذا في بعض النسخ والضمير للكراهة، لكن صاحب الهداية ذكر ذلك الحديث في البيع، ثم قال بعد قوله ولا يعطى أجر الجزار منها «لقوله - عليه الصلاة والسلام - لعلي - رضي الله عنه - تصدق بجلالها وخطامها ولا تعط أجر الجزاز منها شيئا» والنهي عنه نهي عن البيع أيضا لأنه في معنى البيع۔(ردالمحتار ، كتاب الأضحية ، ج: 9 ص: 475)


فتویٰ نمبر : 8897/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور