بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
ہاتھ کی لکیروں کے مؤثرہونے کا عقیدہ رکھنا
سوال
میرا کزن ہےاور ہمارے خاندان میں وہ سب سے اعلی تعلیم یافتہ ہے اس نے اپنی اعلی تعلیم باہر سے حاصل کی ہے سارے خاندان والے اس کی بہت قدر کرتے ہیں اور اس کی باتوں پر یقین کرتے ہیں ابھی کچھ دن پہلے اس نے ایک فیملی پروگرام میں تذکرہ کیا کہ آپ لوگ بھی میرے فلاں استاد سے اپنے ہاتھ کی لکیروں کے بارے میں راہنمائی حاصل کیا کرو کیونکہ ہاتھ کے لکیروں کا زندگی کے حالات پر بہت بڑا اثرہے شریعت مطہرہ کے رو سے راہنمائی فرمائیں؟
جواب
ہاتھوں کی لکیروں کا انسان کی قسمت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، ہاتھوں کی لکیروں یا مختلف ستاروں کی حرکت کا انسانی زندگی اور قسمت پر اثر انداز ہونا یا ان کے ذریعہ سے مستقبل میں پیش آنے والے حالات کا علم ہونا جاہلیت کے باطل عقائد و نظریات ہیں، اسی طرح ہاتھ دیکھنا، دکھانا اور اس کے ذریعہ سے مستقبل کی خبریں بتانا ’’کہانت‘‘ کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ شرعًا ناجائز ہے، احادیثِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ’’کاہن‘‘( کہانت کا عمل کرنے والے) کے پاس مستقبل کی خبر اور حالات جاننے کے لیے جانا اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کی وجہ سے اس شخص کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی ، بلکہ بعض احادیث اور فقہی عبارات کی رو سے تو علماء نے ’’کاہن‘‘ اور کاہن کے پاس جانے والے کے بارے میں کفر کا اندیشہ ظاہر کیاہے لہذ ا صورت مسئولہ میں جس شخص کا ذکرہے اس کی ان باتوں پر یقین نہ کیا جائے اور حکمت وبصیرت کے ساتھ اسےبھی سمجھا کر اس عمل سے روکنے کی کوشش کی جائے۔
حدثنا محمد بن المثنى العنزي، حدثنا يحيى يعني ابن سعيد، عن عبيد الله، عن نافع، عن صفية، عن بعض أزواج النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من أتى عرافًا فسأله عن شيء، لم تقبل له صلاة أربعين ليلةً ) (الصحيح لمسلم ، ج4: ,ص:1751، ٌ)
(و عن حفصة رضي الله تعالى عنها) أي: بنت عمر أم المؤمنين (قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أتى عرافا) بتشديد الراء و هو مبالغة (العارف) ، قال الجوهري : هو الكاهن و الطبيب، و في المغرب : هو المنجم، و هو المراد في الحديث ذكره بعض الشراح. قال النووي: العراف من جملة أنواع الكهان، قال الخطابي و غيره: العراف هو الذي يتعاطى معرفة مكان المسروق ومكان الضالة ونحوهما،۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قال النووي: و أما عدم قبول صلاته فمعناه أنه لا ثواب له فيها، وإن كانت مجزئة في سقوط الفرض عنه، ولا يحتاج معها إلى إعادة، ونظير هذا الصلاة في الأرض المغصوبة مجزئة مسقطة للقضاء، ولكن لا ثواب له فيها، كذا قاله جمهور أصحابنا.قالوا: فصلاة الفرض وغيرها من الواجبات إذا أتى بها على وجهها الكامل يترتب عليها شيئان: سقوط الفرض عنه، وحصول الثواب، فإذا أداها في أرض مغصوبة حصل الأول دون الثاني، ولا بد من هذا التأويل في هذا الحديث، فإن العلماء متفقون على أنه لا يلزم على من أتى العراف إعادة صلاة أربعين ليلة، فوجب تأويله. ‘‘ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7/ 2905)