بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حضرت سلیمان علیہ السلام کی ضیافت کے حوالے سے مشہور واقعہ کی تحقیق


سوال

 حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں یہ واقعہ مشہور ہے کہ  آپ نے ایک دفعہ تمام مخلوقات کے لئے  دعوت کا اہتمام کیا، کئی دنوں تک دعوت کی تیاری کی، جب سب کچھ تیار ہوا، تو ایک مچھلی نے آکر سارا کھانا کھا لیا، اب امر مطلوب یہ ہے کہ یہ واقعہ کس حد تک درست ہے ؟

جواب

             واضح رہے کہ  اہل کتاب  کی کتابوں سے نقل کی گئی واقعات و روایات کو اسرائیلیات کہا جاتا ہے، چونکہ یہود و نصاری اپنی کتابوں میں تحریف کر چکے ہیں ، اس لئے ان روایات پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتاہے، چنانچہ محدثین نے اسرائیلیات کی تین قسمیں بیان کی ہیں،  پہلی قسم یہ ہے کہ اگر ان میں کوئی ایسی بات ہو، جو قرآن و حدیث کے مخالف ہو ، تو اس  کو بیان کرنا جائز نہیں، اور دوسری قسم یہ ہے کہ کہ اس کوئی  میں ایسی بات ہو، جس کی تصدیق ہمیں قرآن و حدیث سے ملتی ہو، ایسی  روایات کا بیان کرنا اور تصدیق کرنا جائزہے ، جبکہ تیسری قسم یہ ہے کہ ان میں ایسی کوئی بات ہو، جس کی تصدیق ہمیں قرآن و حدیث سے نہ ملتی ہو، لیکن قرآن و حدیث سے متصادم بھی نہ ہو، اس جیسی روایات کی نہ تو ہم تصدیق  کریں گے، اور نہ تکذیب، البتہ ان کے بیان کرنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ اسے حدیث کے عنوان سے بیان نہ کیا جائے۔

             صورت مسئولہ میں بیان کردہ واقعہ ہمیں تلاش کے باوجود معتمد کتب حدیث میں نہ مل سکا، البتہ عبدالرحمٰن الصفوری الشافعیؒ ( المتوفی: ۸۹۴ھ) جو کہ ایک مورخ اور ادیب گزرے ہیں، انہوں نے اپنی کتاب "نزہۃ المجالس " ( ج:1 ، ص:439 )میں بغیر کسی سند و حوالے کے یہ واقعہ نقل کیا ہے، بظاہر یہ واقعہ اسرائیلیات کی تیسری قسم میں سے ہے، کیونکہ اس کی تصدیق ہمیں قرآن و حدیث سے نہیں  ملتی ہے، البتہ اس میں  کوئی ایسی بات ذکر نہیں ، جو قرآن و حدیث سے متصادم ہو، لہذا اس جیسے واقعہ کو حدیث کا عنوان دیئے بغیر بیان کرنے کی گنجائش ہے۔

 

عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: كان أهل الكتاب يقرءون التوراة بالعبرانية، ويفسرونها [ص:21] بالعربية لأهل الإسلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تصدقوا أهل الكتاب ولا تكذبوهم، وقولوا: {آمنا بالله وما أنزل إلينا}  (صحیح البخاری ، کتاب التفسیر ، باب قولوا( امنا باللہ وما انزل الینا)،  ج: 2 ص: (644

قوله كان أهل الكتاب أي اليهود قوله لا تصدقوا أهل الكتاب ولا تكذبوهم أي إذا كان ما يخبرونكم به محتملا لئلا يكون في نفس الأمر صدقا فتكذبوه أو كذبا فتصدقوه فتقعوا في الحرج ولم يرد النهي عن تكذيبهم فيما ورد شرعنا بخلافه ولا عن تصديقهم فيما ورد شرعنا بوفافه ( فتح الباری لابن حجر ، کتاب التفسیر ، سورۃ البقرہ، باب قولوا ( امنا باللہ وما انزل الینا)، ج: 9 ، ص:22)

ولكن هذه الأحاديث الإسرائيلية تذكر للاستشهاد، لا للاعتضاد، فإنها على ثلاثة أقسام:أحدها: ما علمنا صحته مما بأيدينا مما يشهد له بالصدق، فذاك صحيح  .والثاني: ما علمنا كذبه بما عندنا مما يخالفه.والثالث: ما هو مسكوت عنه لا من هذا القبيل ولا من هذا القبيل، فلا نؤمن به ولا نكذبه، وتجوز حكايته لما تقدم۔( تفسیر ابن کثیر،  مقدمہ ،  ج: 1، ص:9 )


فتویٰ نمبر : 4752/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور