بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بچوں یابڑوں کے کپڑوں پر ناقص تصویر بنانا


سوال

گھر میں جو عورتیں سلائی کھڑائی کرتی ہیں اس میں پرندوں کی تصویر کپڑوں پربنانا یاگڑیا کی تصویر بنانا کہ گڑیا کا چہرہ نہ ہویعنی آنکھیں منہ وغیرہ نہ ہوتو  کیا اس طرح بچوں یا بڑوں کے کپڑوں  پر بنانا ٹھیک ہے؟

جواب

            واضح رہے کہ جاندار اشیا کی تصویر بنانے اور رکھنے کی شریعت میں سخت مما نعت آئی ہے، لہذا جاندار اشیا کی تصویر قلم سے کسی کاغذ وغیرہ پر بنائی جائے ، یا سلائی کے ذریعے  کسی کپڑے پر، یا کاغذ پربنائی جائے، بہر صورت ناجائز ہے، البتہ  اگرجانداراشیا کی تصویراس طرح بنائی گئی ہوکہ اس کا سرنہ ہو یا مکمل چہرہ ظاہر نہ ہو ، تو ایسی تصویر بنانےاور پاس رکھنے کی گنجائش ہے۔

            صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص جاندار اشیا  کی ایسی تصویر بچوں یا بڑوں کے کپڑوں پر بنائے کہ جس کا سر نہ ہو یا مکمل چہرہ ظاہر نہ ہو  تو ایسی تصویر بنانے اور رکھنے کی گنجائش ہے۔

 

عن أبي هريرة قال : الصورة الرأس فكل شيء ليس له رأس فليس بصورة۔(شرح معاني الأثار، كتاب الكراهة، باب الصور تكون في الثياب،رقم ال حديث:6442)

( و ) لا يكره ( لو كانت تحت قدميه ) ۔۔۔( أو كانت صغيرة ) لا تتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائما وهي على الأرض ذكره الحلبي ( أو مقطوعة الرأس أو الوجه ) أو ممحوة عضو لا تعيش بدونه۔(الدرالمختار علی صدر ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج:2، ص:418)

قوله ( أو مقطوع الرأس ) أي سواء كان من الأصل أو كان لها رأس ومحي وسواء كان القطع بخيط خيط على جميع الرأس حتى لم يبق لها أثر أو يطليه بمغرة ونحوها أو بنحته أوبغسله وإنما لم يكره لأنه لا تعبد بدون الرأس عادة۔(البحرالرائق، كتاب الصلاة، باب ما يفسدالصلاة وما يكره فيها، ج:2، ص:50)


فتویٰ نمبر : 4765/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور