بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مسجد کے بور کو فروخت کرنا


سوال

 ایک شخص نے مسجد میں ایصالِ ثواب کے لیے بور کیا اور و ہ بہت گہرائی میں ہے ،جس کی وجہ سے پانی کافی ٹھنڈا اور میٹھا ہے۔مسجد والے حضرات اب اس کو قیمتاً فروخت کررہے ہیں اور وہ پیسہ مسجد کی تعمیر میں اور مسجد کے دیگر مصارف میں خرچ کرنا چاہتے ہیں ۔کیاایسا کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

            واضح رہے کہ وقف تام ہونے کے بعد موقوفہ چیز کی خرید وفروخت جائز نہیں  اور وقف تام ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ موقوفہ چیز جس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو اس میں کم ازکم ایک مرتبہ استعمال ہوجائے ۔اسی طرح جب واقف موقوفہ چیز کو متولی کے حوالہ کرے تو متولی کے لیے اس کے استعمال میں واقف کی جہتِ وقف اور شرائط کی رعایت ضروری ہے ۔

          صورتِ مسئولہ کے مطابق جب کسی شخص نے مسجد کی زمین میں بور کیا اور پھر اس سے استفادہ بھی کیا گیا،تو اس صورت میں وقف تام ہوکر اب اس کو فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ،نیز اس کو فروخت کرنے  میں چونکہ جہتِ وقف کی مخالفت بھی ہے اس لیے اس کو فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ۔

 

(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن) (قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه۔(الدرالمختار مع ردالمحتار، كتاب الوقف ، ج: 6 ص: 531 ، دارالكتب العلمية)

فإنّ شرائط الواقف معتبرة مالم تخالف الشرع، وهو مالك فله أن يجعل ماله حيث شاء مالم يكن معصية۔(ردالمحتار ، كتاب الوقف مطلب: شرائط الواقف ، ج: 6 ص: 527)


فتویٰ نمبر : 4743/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور