بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
مسجد کی رقم سودی اکاؤنٹ میں رکھنا
سوال
1۔اگر مسجد کی کمیٹی یا متولی نے چندہ کی رقم کو کسی سودی بینک کے سیونگ اکاونٹ (PLS)میں رکھی ہواور ا س پرحاصل شدہ سودی رقم مسجد کی تعمیر یا مسجد کے ضروری مصارف میں خرچ کردے، تو کیا یہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ نیز حرام رقم سے تعمیر شدہ مسجد کا کیا حکم ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ سود کی حرمت نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہے۔قرآن وحدیث میں سودی معاملہ کرنے والوں کے متعلق سخت وعیدیں مذکور ہیں، ارشادِ باری تعالی ہے :﴿ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ البقرة:275 (اللہ تعالی نے خرید و فروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے )اسی طرح سود کھانے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے اعلانِ جنگ ہے ، چنانچہ ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾البقرة:279(پھر بھی اگر تم ایسا نہ کروگے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو )۔نبی کریم ﷺ نے سود کھانے والے ،کھلانے والے لکھنے والے، اور اس کے گواہ بننے والے سب پر لعنت فرمائی ہے اور ان سب کو برابر قرار دیا ہے ۔
لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق مسجد کمیٹی کے ممبران یا متولی کا چندہ کی رقم کو سودی بینک کے سیونگ اکاونٹ (PLS)میں رکھنا جائز نہیں، کیونکہ علماء وفقہاء کی تحقیقات کے مطابق PLS اکاونٹ سے ملنے والے منافع بھی دراصل سود ہی ہیں ، لہذا اس مسجد فنڈ کو PLS اکاونٹ میں رکھ کراس پر سود وصول کرنا اور اسے مسجد کے مصارف میں خرچ کرنا حرام ہے، کیونکہ ہر قسم کی حرام کمائی خواہ سود کے پیسے ہوں یا کسی اور حرام ذریعہ سے آئی ہو مسجد میں استعمال کرنا حرام ہے، تاہم اگر حرام مال مسجد میں خرچ کی گئی ہو تو اب مسجد کو اس حرام مال سے پاک کرنے کے لیےکوئی صاحبِ خیر اپنی طرف سے یا مسجد کے چندہ سے اتنی ہی رقم فقراء اور غرباء پر بغیر نیتِ ثواب صدقہ کردی جائے۔
عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»۔(الصحيح لمسلم ، كتاب البيوع ، باب لعن آكل الربوا ج: 2 ص: 27)
قال تاج الشريعة: أما لو أنفق في ذلك مالا خبيثا ومالا سببه الخبيث والطيب فيكره لأن الله تعالى لا يقبل إلا الطيب، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله. (ردالمحتارعلى الدرالمختار ، كتاب الصلوة ، باب مايفسد الصلوة و يكره فيها ، ج: 2 ص: 431)
لو مات رجل وكسبه من ثمن الباذق والظلم أو أخذ الرشوة تعود الورثة ولا يأخذون منه شيئا وهو الأولى لهم ويردونه على أربابه إن عرفوهم، وإلا يتصدقوا به؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد۔(البحرالرائق ، كتاب الكراهية ، فصل في البيع ، ج: 8 ص: 369)