بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کیک پر مبارک نام لکھ کر اس کو کاٹنا


سوال

 آج کل سالگرہ وغیرہ دیگر تقریبات میں کیک پر نام لکھ کر پھر اسے کاٹا جاتا ہے، ناموں میں "اللہ، رحمن ، محمد "وغیرہ مبارک نام شامل ہیں اور پھر انہی ناموں پر چھری پھیر کر کیک کاٹا جاتا ہے، جبکہ بعض اوقات کیک کاٹ کر اسے ایک دوسرے کے منہ پر ملتے ہیں ،اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب

           واضح رہے کہ مقدس ناموں، آیاتِ قرآنیہ اور کلماتِ طیبہ کا ادب واحترام کرنا اور ان کی بے ادبی و تحقیر سے خود کو بچانا ہر مسلمان کا دینی واخلاقی فریضہ ہے۔ کسی مسلمان کے شایانِ شان نہیں کہ وہ مقدس کلمات ، ناموں وغیرہ کی تحقیر اور بے ادبی کرے، چنانچہ فقہائے کرامؒ نے ایسے مقامات پر آیاتِ قرآنیہ، کلماتِ طیبہ وغیرہ لکھنے کی ممانعت فرمائی ہے جہاں پر بے ادبی کا شائبہ ہو،اسی طرح جس کاغذ میں اللہ تعالی کا نام یا دیگر کلماتِ طیبہ لکھی ہوں، ایسے کاغذ میں کسی چیز کے لپیٹنے کو بھی بے ادبی کی وجہ سے ممنوع قرار دیا گیا ہے چنانچہ صورتِ مسئولہ کے مطابق کیک پر مقدس نام  "اللہ، رحمن ، محمد " وغیرہ لکھ کر پھر اس کو چھری سے کاٹنے میں   چونکہ ان ناموں کی تحقیر اوربے ادبی ہوتی ہے، اس لیے یہ عمل شرعا ًجائز نہیں، لہذا  اس سے اجتناب ضروری ہے۔

 

وليس بمستحسن كتابة القرآن على المحاريب والجدران لما يخاف من سقوط الكتابة وأن توطأ وفي جمع النسفي مصلى أو بساط فيه أسماء الله تعالى يكره بسطه واستعماله في شيء۔۔۔وكذا يكره كتابة الرقاع وإلصاقها بالأبواب لما فيه من الإهانة.(الفتاوى الهندية ، كتاب الصلوة ، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: 1 ص: 114)

ويكره أن يجعل شيئا في كاغدة فيها اسم الله تعالى كانت الكتابة على ظاهرها أو باطنها۔ (الفتاوى الهندية ، كتاب الكراهية ، الباب الخامس في آداب المسجد ، ج: 5 ص: 312)


دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور