بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
قبرستان میں پلر گاڑھ کرمسجد و مدرسہ بنانا
سوال
قبرستان کے اوپر مسجد اور مدرسہ بنانا کیسا ہے؟ جبکہ قبرستان مشترکہ موقوفہ زمین ہو اور قبریں پختہ ہوں اور یہ مسجد اور مدرسہ پلرز پر بنائے گئے ہیں۔
جواب
واضح رہے کہ جب زمین کسی خاص مصرف میں استعمال کیلئے وقف کی جائے اور وقف تام بھی ہو جائے مثلا قبرستان کیلئے وقف کی ہوئی زمین میں کوئی میت دفنایا جائے تو اس سے وقف تام ہو جاتاہے شرعی نقطہ نظر سے اس موقوفہ زمین کو اس وقت تک دوسرے مصارف میں استعمال نہیں کیا جا سکتا جب تک اسکو متعلقہ وقف یا مصالح وقف میں استعمال کرنا ممکن ہو ۔
صورت مسئولہ میں اگر زمین واقعی قبرستان کیلئے وقف کی گئی ہو اور اس میں مردے بھی دفنا ئے گئے ہوں نیز اب بھی وہ زائد از ضرورت نہ ہو تو ایسی موقوفہ زمین کی سطح پرجدیدقبروں کو ہموار کرکے مدرسہ کی تعمیر جائز نہیں، البتہ پلر گاڑھ کر اس کے اوپر چھت ڈالنے کے بعدمسجدو مدرسہ بنانے کی گنجائش ہے، تاہم ضروری ہے کہ اس سے قبریں متاثر نہ ہوں۔نیز یہ بھی ضروری ہےکہ قبرستان کے متولی، علاقے کے مشران اور جن لوگوں کے عزیز و اقارب کی قبریں پلرز کے احاطہ میں آرہی ہوں،ان سے اجازت حاصل کی جائے، تاکہ کہیں یہ اقدام فتنہ و فساد کا ذریعہ ثابت نہ ہو۔
عند محمد اذا استسقی الناس من السقاية ،وسکنواالخان والرباط،ودفنوا فی المقبرة زال الملک۔(تبيين الحقائق،کتاب الوقف ،فصل من بنی مسجدا، ج:4، ص:274،)
فان شرائط الواقف معتبرۃ اذا لم تخالف الشرع ،و هو مالک فله ان يجعل ماله حيث شاء مالم يكن معصية۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الوقف ،مطلب شرائط الواقف معتبرة، ج:6، ص:527)
وَلَوْ بَلي الْمَيِّتُ وَصَارَ تُرَابًا جَازَ دَفْنُ غَيْرِهِ في قَبْرِهِ وَزَرْعُهُ وَالْبِنَاءُ عليه۔(الفتاوی الهندية ، كتاب الصلوة، ج:1، ص:167)
"فَإِن قلت: هَل يجوز أَن تبنى على قُبُور الْمُسلمين؟ قلت: قَالَ ابْن الْقَاسِم: لَو أَن مَقْبرَة من مَقَابِر الْمُسلمين عفت فَبنى قوم عَلَيْهَا مَسْجِدا لم أر بذلك بَأْسا، وَذَلِكَ لِأَن الْمَقَابِر وقف من أوقاف الْمُسلمين لدفن موتاهم لَا يجوز لأحد أَن يملكهَا، فَإِذا درست وَاسْتغْنى عَن الدّفن فِيهَا جَازَ صرفهَا إِلَى الْمَسْجِد، لِأَن الْمَسْجِد أَيْضا وقف من أوقاف الْمُسلمين لَا يجوز تملكه لأحد، فمعناهما على هَذَا وَاحِد."(عمدۃالقاری شرح صحیح البخاری، كتاب الصلاة، باب هل تنبش قبور مشركي الجاهلية ويتخذ مكانها مساجد، ج:4، ص:179)
رجل وقف ضيعته على جهة معلومة أو على قوم معلومين ثم إن الواقف غرس شجرا قالوا: إن غرس من غلة الوقف أو من مال نفسه لكن ذكر أنه غرس للوقف يكون للوقف وإن لم يذكر شيئا وقد غرس من مال نفسه يكون له وورثته بعده ولا يكون وقفا۔(الفتاوی الهندية،كتاب الوقف،الباب الحادي العشر في المسجد، ج:2، ص:418)