بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

وکیل کا زکوۃ کو متعین کردہ مصرف کے علاوہ خرچ کرنا


سوال

زید نے بکر کو چھ ہزار روپے دیئے کہ فلاں مدرسہ میں زکوۃ کے مد میں دو۔بکرنے اس سے وہ چھ ہزار روپے لیے اور کسی فقیر کو زکوۃ کی مد میں دیئے۔اب کیا زید کی زکوۃ ادا ہوگئ ہے؟اور بکر اس طرح کرنے سے گنہگار تو نہیں  ہوگا؟

جواب

          کسی شخص کا دوسرے شخص کو اپنی جگہ کسی جائز اور متعین تصرف میں قائم مقام بنانا وکالت کہلاتاہے،عقد وکالت میں وکیل مؤکل کاتابع ہوتاہے یعنی وکیل اتنے ہی تصرف کااختیار رکھتاہے جتنا مؤکل نے اسے دیا ہو ۔باقی معاملات کی طرح ادائے زکوۃ کے لیے بھی کسی شخص کو وکیل بنانا جائز ہےجس میں وہ مؤکل کے قول کا پابند ہوگا۔

           صورت مسئولہ میں اگر زید نے بکر کو کسی خاص مدرسہ  میں  چھ ہزار روپے زکوۃ کی مد میں دینے کے لیے دیئے تھے،مگر بکر نے وہ روپے کسی دوسرے فقیر کو دیے،تو یہ مؤکل کی مخالفت کی وجہ سے جائز نہیں تھا،لہذا زید کی زکوۃ ادا نہیں ہوئی ،اور بکر چھ ہزار روپے کا زید کے لیے ضامن ہوگا۔

 

"الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره"(ردالمحتارعلی الدرالمختار،مطلب فی زکوٰۃ ثمن المبیع وفاء، ج3، ص189، دارالکتب العلمیة)

"سئل عمر الحافظ عن رجل دفع إلی الآخر مالاً، فقال لہ: ”ھذا زکاة مالي فادفعھا إلی فلان“ ، فدفعھا الوکیل إلی آخر ھل یضمن؟ فقال: نعم، لہ التعیین"(الفتاوی التاتارخانیة، کتاب الزکوة، ج:3، ص:228)


فتویٰ نمبر : 8883/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور