بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عدالتی تنسیخ نکاح کا حکم


سوال

ایک  شخص کی بیوی شوہر سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنی والدہ کو چھوڑ کر اس کے میکے میں رہےیا اس کے میکے کے قریب آس پاس میں کوئی گھر کریہ پر لیکر اسے مہیا کرے اور شوہر ساتھ  نہیں  رہنا  چاہتا تو مہینے دو مہینے بعد چکر لگایا کرے، ان مطالبات کے کو پورا کیے  بغیر وہ سسرال نہیں آئی گی ۔ شوہر اپنے مالی وسائل اور والدہ کی خدمت کی  وجہ سے بیوی کے مطالبات پورا کرنے سے قاصر ہے۔

1-کیا مذکورہ عورت کو نان نفقہ نہ دینے کی وجہ سے شوہر گناہ گار ہوگا؟

2-عورت نے ان مطالبات کو پورا نہ ہوتے ہوئے دیکھ کر فیملی کورٹ میں شوہر کے خلاف دعوی تنسیخ نکاح بر بنائے خلع کا کیس دائر کیا۔ عدالت نے خلع کا فیصلہ سنا دیا، حالانکہ شوہر نہ اس پر راضی ہے اور نہ ہی اس پر دستخط کی  ہے۔نیز شوہر نہ نا مرد ہے اور نہ ذہنی مریض  اور نہ ہی اپنی منکوحہ سے غیر شرعی مطالبات کرتا ہے۔ کیا شرعی لحاظ سے عدالتی فیصلے کی بنیاد پر یہ نکاح فسخ ہوگیا ہے؟ اور وہ عدالتی فیصلے کو لیکر سرٹیفیکیٹ حاصل کر کے دوسرا نکاح کرسکتی ہے؟

جواب

                شرعی نقطہ نظر سے منکوحہ عورت کا نان نفقہ شوہر کے ذمے واجب ہے، لیکن جہاں شوہر کے ذمے بیوی کے حقوق لازم ہیں وہاں اس کے بدلے عورت کا شوہر کے ہاں رہ کر اس کے حقوق کی ادائیگی بھی لازم ہے، لہذا عورت کی نافرمانی اور گھر سے نکلنے کی صورت میں عورت کا حقِ نفقہ ساقط ہوجاتا ہے۔نیز میاں بیوی کے مابین ازدواجی تعلقات قائم ہونے کے  بعد اگر شوہر استطاعت رکھتے ہوئے بھی بیوی کے حقوق کی ادائیگی یا نان نفقہ کی ادائیگی سے انکار کرلے تو ایسی صورت میں عورت شوہر کو  طلاق یا خلع پر راضی کر کےعلیحدگی حاصل کرسکتی ہے، البتہ اگر خاوند نہ نان نفقہ دینے کو تیار ہو اور نہ طلاق یا خلع  دینے کو تیار ہوتو ایسے شوہر کو متعنت کہا جاتا ہے۔ ایسی  صورت میں عورت  عدالت کا سہارا  لے سکتی ہے۔  چنانچہ قاضی تحقیق کرے اگر شوہر واقعی متعنت ہو  اور اس کے بعد قاضی  تنسیخِ نکاح کی ڈگری جاری کرے تو یہ عورت  انقضاے عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔تاہم اگر شوہر شرعی احکام کے مطابق  باقاعدہ بیوی کے ساتھ زندگی گذارتا ہو اور حقوق کی ادائیگی میں غفلت سے کام نہ لیتا ہو اور پھر بھی عورت نکاح ختم کرنے کا بے جا مطالبہ کرتی ہو تو ایسی صورت میں عورت کا عدالت کو رجوع  کرنا اور تنسیخِ نکاح کی ڈگری حاصل کرنا شرعاً معتبر نہ ہوگا ، ایسی عورت بدستور شوہر کے نکاح میں رہتی ہے۔

                1-صورتِ مسئولہ میں اگر وقعتا  عورت شوہر کی اجازت کے بغیر چلی گئی ہو  تو اس کے نان نفقے کا حق بھی ساقط ہوگا ، اس لیے نفقہ نہ دینے کی وجہ سے شوہر گناہ گار نہ ہوگا۔

2-اگر واقعی عورت نے سوال میں مذکور مطالبات پورا نہ ہونے کی وجہ سے عدالت سے تنسیخِ نکاح کی ڈگری حاصل کی ہو  اور شوہر متعنت نہ ہو تو شرعا یہ ڈگری معتبر نہ ہوگی  ،بلکہ  عورت بدستور اس کے نکاح میں رہی گی اور دوسری جگہ نکاح کرنا اس کے لیے جائز نہ ہوگا۔تاہم اگر عدالت کی طرف سے بار بار اطلاع دینے کے باوجود کسی عذر کے بغیر شوہر حاضر نہ ہوا ہو اور اپنا موقف پیش کرنے سے انحراف کیا ہوتو پھر اس کے خلا ف عدالت کی کارروئی معتبر شمار ہوگی۔

 

وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه۔(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الأول في نفقة الزوجة، ج:1، ص:595)

قال في الفتح ومنها أي من محاسنه جعله بيد الرجال دون النساء لاختصاصهن بنقصان العقل وغلبة الهوى ونقصان الدين۔(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الطلاق، ج:4، ص:429)

لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة۔(الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، الباب الثالث في المحرمات، القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير، ج:1، ص:346)


فتویٰ نمبر : 6286/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور