بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مسجد میں تعزیت کے لیے بیٹھنا


سوال

 بعض علاقوں میں فوتگی کے موقع پر ورثا تین دن تک مسجد میں  بیٹھے رہتے ہیں اور تعزیت کے لیے ان کے پاس آتے رہتے ہیں ، تعزیت کے بعد لوگ بیٹھ کر گپ شپ لگاتے ہیں  اور اس میں ہر قسم کی گپ شپ،مثلا: سیاسی، معاشی ، غیبت، بہتان، برا بھلا کہنا، چغل خوری وغیرہ ہوتی ہے ،بعض اوقات گالی اور آبرو ریزی تک کی نوبت آتی ہے اور بعض لوگ  گندے جراب کے ساتھ بلا ججھک کے مسجد میں آتے ہیں۔ کیا اس صورتِ حال میں مسجد میں تعزیت کے لیے بیٹھنا جائز ہے؟

جواب

             واضح رہے کہ مسجد  خداوندِ تعالی کی عبادت، تلاوتِ قرآن اور ذکر و فکر  کے لیے مخصوص ہوتی ہے، اس لیے  اس کی تعظیم و احترام کا خیال رکھنا  ہرمسلمان  پر لازم اور ضروری ہے۔ مسجد کی ظاہری صفائی کے ساتھ ساتھ اس کو دنیاوی باتوں، شور شغب اور ہر قسم کے ایسے امور سے پاک رکھنا ضروری ہے جو مسجد کی  بے احترامی کا باعث ہو۔ چونکہ مسجد میں تعزیت کے لیے بیٹھنے کے دوران عام طور پر مسجد کے آداب کی رعایت نہیں رکھی جاتی، مسجد کا احترام متاثر ہوتا ہے ، اس لیے فقہاے کرام نے ایسی صورت میں مسجد میں تعزیت کے لیے بیٹھنے کو مکروہ لکھا ہے۔

                لہذا صورتِ مسئولہ میں مسجد میں تعزیت کےوقت  جب سوال میں مذکور نا جائز امور کا ارتکاب ہوتا ہوتو مسجد میں تعزیت کے لیے بیٹھنا درست نہیں ۔

 

حرمة المسجد خمسة عشر۔۔۔ والسادس أن لا يرفع فيه الصوت من غير ذكر الله تعالى والسابع أن لا يتكلم فيه من أحاديث الدنيا۔(الفتاوى الهندية، كتاب الوقف، الباب الخامس في آداب المسجد، ج:5، ص:321)

وبالجلوس لها في غير مسجد ثلاثة أيام۔ قال ابن عابدين تحت قوله(في غير مسجد): أما فيه فيكره كما في البحر عن المجتبى، وجزم به في شرح المنية والفتح۔۔۔ قلت: وهل تنتفي الكراهة بالجلوس في المسجد وقراءة القرآن حتى إذا فرغوا قام ولي الميت وعزاه الناس كما يفعل في زماننا الظاهر؟ لا لكون الجلوس مقصودا للتعزية لا القراءة۔  (الدرالمختار مع ردالمحتار، كتاب الصلوة، باب الصلوة الجنازة، مطلب في كراهة الضيافة من أهل البيت، ج:3، ص:148)


فتویٰ نمبر : 4729/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور