بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ثمن کی ادائیگی سے پہلے بائع کا اپنی چیز کو دوبارہ کم قیمت پر خریدنا


سوال

ایک شخص دوسرے شخص کو ایک سال کی ادھار پر نو لاکھ (900000) میں گاڑی فروخت کر دے،پھر مشتری  کچھ گھنٹوں بعد گاڑی واپس کردے کہ مجھے پیسوں کی ضرورت آپڑی ہےآپ مجھ سے نقد ساڑهے پانچ لاکھ (550000) میں خرید لیں میں آپ کے نو لاکھ (900000) حسب معاہدہ  سال میں ادا کردوں گا، یوں بائع اس کو ساڑهے پانچ لاکھ (550000)ادا کرکے گاڑی واپس خرید لیتا ہے، کیا اس طرح معاملہ کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟

 

جواب

          کسی چیز کو ادھار زیادہ قیمت پر خرید کر ثمن کی ادائیگی سے پہلے دوبارہ نقد کم قیمت پر فروخت کرنا شرعا ناجائز ہے۔

          صورت مسٔولہ کے مطابق اگر کوئی شخص نو لاکھ (900000) میں ادھار  گاڑی فروخت کرے اور مشتری رقم کی ادائیگی سے پہلے دوبارہ اس کے ہاتھ وہ گاڑی نقد ساڑهےپانچ لاکھ(550000) میں فروخت کرنا چاہےتو بائع کے لیے شرعا یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس گاڑی کو ثمن اول سے کم قیمت پر خرید لے۔

 

"(قوله وفسد شراء ما باع إلخ) أي لو باع شيئا وقبضه المشتري ولم يقبض البائع الثمن فاشتراه بأقل من الثمن الأول لا يجوز"(رد المحتار على الدر المختار، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:7، ص:267)

"ولم يجز شراؤه وشراء من لا تصح شهادته له ما باع بنفسه أو بيع له بأن باع وكيله بأقل مما باع قبل نقد الثمن لنفسه أو لغيره من مشتريه أو من وارثه"(الفتاوی الهندية، كتاب البيوع، الفصل العاشر،في مايجوز بيعه ومالا يجوز، ج:3، ص:133)


فتویٰ نمبر : 2868/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور