بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عشر بائع پر ہے یا مشتری پر؟


سوال

ہمارے علاقے میں سیب، خوبانی اور انگور کے باغات ہیں ، اکثر باغات ٹیوب ویل یا جنریٹر کے ذریعے  سیراب  کیے جاتے ہیں ،اس لیے ان باغات میں نصف عشر ہے۔ مذکورہ میوہ جات پختہ ہونے سے پہلے ہی فروخت کیے جاتے ہیں اور پختہ ہونے تک درختوں پر رہنے دیے جاتے ہیں اور وہ اتنی غالی قیمت میں فروخت کیے جاتے ہیں کہ مشتری کو بہت کم نفع مل  جاتا ہے۔ اب ایک عالم نے فتوی دیا کہ عشر مشتری پر ہے تو اصل مالک عشر ادا نہیں کرتا اور مشتری کہتا ہے کہ سارا نفع بائع کو ملے اور میں راس المال اور نفع دونوں کا عشر دے دوں، مثلاً: ایک باغ پانچ  کروڑ کا بکتا ہے جس کا نصفِ عشر پچیس لاکھ بنتا ہے ، جب کہ مشتری کو زیادہ سے زیادہ پانچ تا دس لاکھ نفع ہوتا ہےتو اگر مشتری پھر بھی عشر ادا کرے تو کیا یہ تکلیف مالا یطاق نہیں؟ اور بائع اتنی کثیر رقم کے باوجود عشر سے بری ہوگا؟ دیگر فتاوی جات "فتاوی فریدیہ، آپ کے مسائل اور ان کا حل اور فتاوی مفتی محمودؒ  وغیرہ " میں ہے کہ بعد الادراک بیچنے کی صورت میں عشر بائع پر ہے۔ اب درجہ ذیل مسائل کا حل مطلوب ہے:

  1. بعد الادراک اور قبل الادراک میں ادراک سے کیا مراد ہے؟اگر ادراک سے مراد "پختہ ہونا" ہو تو مسئلہ واضح ہے ، لیکن اگر مراد"ظہورِ ثمر " ہو تو پھر قبل الادراک کا کیا معنی ہوگا؟
  2. اگر عشر بائع پر ہو اور مشتری اس کو ادا کرے تو کیا اتنی رقم کا بائع پر رجوع کرسکتا ہے یا نہیں؟
  3. اگر مشتری پر ہو تو نیابۃً ہے یا اصالۃً ؟ اگر نیابہً ہےتو کیا بائع پر رجوع کرسکتا ہے یا نہیں ؟ اور اگر اصالۃً ہے تو پھر اگر بائع عشر ادا کرے کیا پھر بائع مشتری پر رجوع کرسکتا ہے یا وہ متبرع شمار ہوگا؟
  4. ایک کے ادا کرنے سے دوسرے کا ذمہ فارغ ہوتا ہے یا نہیں؟
  5. خیر الفتاوی کی عبارت"مشتری سے وصولی درحقیقت بائع سے وصولی ہے" کا کیا مطلب ہے؟ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشتری پر عشر کا لزوم صرف حکومتی عامل کی آسانی کے لیے ہے۔ کیا یہی صحیح ہے؟

جواب

                واضح رہے کہ فصل یا پھل کے عشر اور نصفِ عشر کا بائع یا مشتری میں سے کسی  پر واجب ہونے میں اصل اعتبار ادراک یعنی "پختگی"کا ہے  کہ جس کے قبضہ  میں فصل پک جائے یا پھل پختہ ہو جائے اسی پر عشر یا نصفِ عشر لازم ہوگا، لہذا اگر فصل اور پھل کو پکنے اور پختہ ہونے کے بعد فروخت کیا گیا تو عشر یا نصفِ عشر بائع پر واجب ہوگا اور اگر پکنے اور پختہ ہونے سے پہلے فروخت کیاگیا  تو اس کی دو صورتیں ہیں: پہلی صورت یہ ہےکہ مشتری اسی حالت میں اس کو کاٹ دے تو عشر یا نصفِ عشر بائع پر واجب ہوگا۔ دوسری صورت یہ ہے مشتری اس کو ادراک(پختہ ہونے) تک درختوں پر چھوڑدے تو اس صورت میں طرفین کے نزدیک عشر مشتری پر واجب ہوگا، جب کہ امام ابویوسفؒ کے نزدیک جس وقت فصل یا پھل فروخت کیا گیا تھا اس وقت کی قیمت کا عشر بائع پر ، جب کہ اس کے بعد ہونے والی زیادتی کی قیمت کا عشر مشتری پر واجب ہوگا،البتہ راجح قول اس صورت میں یہ ہے کہ عشر  مشتری پر واجب ہے۔مشتری پر عشر واجب ہونے کی صورت میں مشتری کو چاہیے  کہ وہ اپنے اندازے کے مطابق بائع کےساتھ اتنی ریٹ کم طے کردے جتنا اسے عشر ادا کرنا ہے،یوں  یہ مشتری پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں بنے گا۔ نیز عشر یا نصف عشر جس پر واجب ہو اس کی ادائیگی یا اس کی اجازت سے ادائیگی سے ذمہ فارغ ہوجائے گا، بغیر اجازت کےاپنے مال سے دوسرے کا عشر ادا کرنے سے اس کا ذمہ فارغ نہیں ہوگا۔

  1. صورتِ مسئولہ میں"ادراک " سے مراد "پختگی" ہے، نہ کہ ظہورِ ثمر۔

4،3،2 -بائع اور مشتری میں سے جس پر ادائیگی واجب ہے تووہ اصالۃً ہے ، دوسرے کی طرف سے نیابۃً نہیں ، لہذاجس صورت میں عشر یا نصفِ عشر کی ادائیگی بائع یا مشتری  پر واجب ہے تو اگر دوسرا  بغیر اجازت کے اپنے مال سے اس  کی طرف سے ادئیگی کرے تووہ  اپنی طرف سے متبرع  شمار ہوگااور اس کو دوسرے پر رجوع کرنے کا حق حاصل نہیں۔نیز جس پر عشر یا نصفِ عشر واجب ہے اس کا ذمہ بھی فارغ نہیں ہوگا اگرچہ وہ بعد مین اجازت بھی دے دے۔

5-خیر الفتاوی کی عبارت کا صحیح مطلب  متعلقہ ادارے سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔

ولو باع الأرض العشرية وفيها زرع قد أدرك مع زرعها أو باع الزرع خاصة فعشره على البائع دون المشتري لأنه باعه بعد وجوب العشر وتقرره بالإدراك ولو باعها والزرع بقل فإن قصله المشتري للحال فعشره على البائع أيضا لتقرر الوجوب في البقل بالقصل وإن تركه حتى أدرك فعشره على المشتري في قول أبي حنيفة ومحمد لتحول الوجوب من الساق إلى الحب وروي عن أبي يوسف أنه قال عشر قدر البقل على البائع وعشر الزيادة على المشتري وكذلك حكم الثمار على هذا التفصيل۔(بدائع الصنائع، کتاب الزکوة، فصل في زكوة الزروع، فصل في شرائط الفرضية،ج:2،ص:500-501)

ولو باع الزرع إن قبل إدراكه فالعشر على المشتري ولو بعده فعلى البائع۔(الدرالمختار على صدر ردالمحتار، كتاب الزكوة، باب العشر، ج:3، ص:276)

وإذا باع الأرض العشرية وفيها زرع قد أدرك مع زرعها أو باع الزرع خاصة فعشره على البائع دون المشتري ولو باعها والزرع بقل إن فصله المشتري في الحال يجب على البائع ولو تركه حتى أدرك فعشره على المشتري۔(الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، الباب السادس في زكوة الزروع والثمار ، ج:1، ص:249)

ولو تصدق عن غيره بغير أمره فإن تصدق بمال نفسه جازت الصدقة عن نفسه ولا تجوز عن غيره وإن أجازه ورضي به۔ أما عدم الجواز عن غيره فلعدم التمليك منه إذ لا ملك له في المؤدي ولا يملكه بالإجازة فلا تقع الصدقة عنه وتقع عن المتصدق لأن التصدق وجد نفاذا عليه۔(بدائع الصنائع، كتاب الزكوة، فصل في شرائط الركن،ج:2، ص:460)

يقال أدركت الثمار إذا بلغت إناها وانتهى نضجها۔(لسان العرب، المادة:درك، ج:4، ص:335)


فتویٰ نمبر : 8871/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور